ایف آئی اے کی تحقیقات: جناح اسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تفصیلات فراہم نہ کرنے کا انکشاف

تشکر نیوز: ایف آئی اے ذرائع کے مطابق، جناح اسپتال کی انتظامیہ نے نوٹس کے باوجود کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ایف آئی اے نے جناح اسپتال کی ادویات اور لینس کی خریداری میں غیر قانونی سرگرمیوں کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اسپتال کی ادویات کی خریداری کی انچارج، جو گریڈ 20 کی پروفیسر ہیں، کو گریڈ 18 کی ڈپٹی ڈائریکٹر میڈیسن کی غیر قانونی اور خود ساختہ پوزیشن پر مقرر کیا گیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل محمد علی کو سیکرٹری دفاع، جنرل عاصم ملک کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کر دیا گیا

ایف آئی اے کے مطابق، محکمہ صحت کے ماتحت اداروں میں غیر ضروری بلیک مارکیٹ سے ادویات خریدنے کے لئے کمیشن اور کک بیکس کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ تحقیقات کے دوران، یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ محکمہ صحت کے افسران، اسپتالوں کی خریداری شعباجات کے ذمہ داران، اور غیر قانونی دوائیوں کے بیوپاریوں پر مشتمل ایک گروہ ان غیر قانونی کاموں میں ملوث ہے۔

75116593 ea1d 46ee 9ac0 cb34c4e5f0c7 722ce7a8 5e0d 4cdf a7b7 c877339dbc4a

ایف آئی اے کی کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جناح اسپتال میں خریداری کے معاملات میں شفافیت کا فقدان ہے، جو کہ عوامی صحت کی حفاظت کے لئے ایک سنگین مسئلہ ہے۔

64 / 100 SEO Score

One thought on “ایف آئی اے کی تحقیقات: جناح اسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تفصیلات فراہم نہ کرنے کا انکشاف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!