کراچی کے طالب علموں سے پھر کھلواڑ انٹرکامرس کے نتائج کا 7 ماہ بعد بھی اعلان نہ ہوسکا

تشکُّر نیوز رپورٹنگ،

گزشتہ نتائج کی طرح انٹرکامرس کے نتائج میں بھی گھپلوں کا امکان

آنکھوں میں سہانے مستقبل کے سپنے بجائے کراچی کے ہزاروں اہل طالبعلموں کے خواب اس وقت چکنا چور ہوگئے تھے جب انٹربورڈ سال اول کے پری میڈیکل اور پری انجینرنگ کے امتحانی نتائج میں 60 فیصد طلبہ فیل ہوگئے ۔ بعد میں تصدیق ہوگئی کہ امتحانی نتائج میں جعلسازی کی گئی ۔ غفلت اور لاپروائی کا عنصر بھی غالب رہا ۔۔ اس واقعے کے بعد تحقیقاتی کمیٹی بنی ۔ روایتی تحقیق ہوئی لیکن جو نقصان ہونا تھا وہ ہوگیا ۔

اینٹی کرپشن عدالت نے انٹر میڈیٹ کے نتائج میں رد و بدل کے کیس میں نامزد سابق چیئرمین انٹر بورڈ سعید الدین، نسیم میمن، سابق کنٹرولر امتحانات انور علیم، ظہیر الدین بھٹو کی عبوری ضمانت منظور کی تھی ۔عدالت نے ملزمان کو 1، 1 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا جبکہ کیس کے تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے 29 مارچ تک جواب طلب کر لیا۔ملزمان پر انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر مقدمہ درج کیا گیا تھا اور ان سب پر اینٹی کرپشن حکام کے مطابق انٹر میڈیٹ پری میڈیکل 2022ء کے نتائج میں بے ضابطگیوں کے الزامات ہیں۔لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے گیارہویں جماعت کے گزشتہ امتحانی نتائج میں گھپلوں کے بعد فرسٹ ایئر کامرس کے نتائج میں بھی گھپلوں کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔

بوکھلاہٹ کی شکار بورڈ انتظامیہ کامرس کے نتائج کا اعلان امتحانات کے سات ماہ بعد بھی نہیں کرسکی۔بورڈ ذرائع کے مطابق انٹر سال اول کے نتائج میں کامیاب طلبہ کا تناسب بمشکل اکتیس فیصد ہے جو گزشتہ سال کے نتائج کے مقابلے میں تقریباً پندرہ فیصد کم ہے۔ بورڈ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ اگر یہ نتائج جاری ہوگئے تو بحرانوں میں گھرے ہوئے بورڈ میں ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوجائے گا اور ایک نیا پینڈورا بکس کھل سکتا ہے۔

جس سے کامرس ریگولر کے ہزاروں طلبا بھی فرسٹ ایئر پری میڈیکل ۔ پری انجنیئرنگ اور آرٹس کے طلبہ کی طرح احتجاج کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔ اس سے قبل کراچی انٹر بورڈ کے چیئرمین پروفیسر نسیم میمن کو برطرف کرکے چارج کمشنر کراچی کو دے دیا گیا تھا۔ اب دوبارہ عدالتی فیصلے کے بعد نسیم میمن کو بورڈ کا چیئرمین تعینات کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے آتے ہی کامرس کا نتیجہ جاری ہونے سےروک دیا ہے۔

سوالات تو اٹھتے ہیں ۔۔ کیا نتائج میں تبدیلی اور جعلسازی کراچی کے بچوں کا مستقبل تاریک کرنےکی دانستہ کوشش تو نہیں ؟ کیا شہری علاقوں کے بچوں پر تعلیمی اداروں کے دروازے بند کئے جارہے ہیں؟ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ کراچی میں انٹرسال اول کے ساٹھ فیصد بچے فیل ہوجائیں دیہی علاقوں میں 80 سے 90 فیصد بچے پاس ہوجائیں ؟ حکومت کو اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے بتایا جائے کہ یہ سب کیسے ہوا اور اب کراچی میں انٹرکامرس کے نتائج کیوں سات ماہ سے تاخیر کے شکار کیوں ہیں؟


اعلی تعلیمی ثانوی بورڈ کراچی کی جانب سے انٹر سال اول 2023 کے متنازعہ رزلٹ کے اجرا کے بھیانک نتائج سامنے آرہے ہیں اور ان نتائج میں طلبا کی اکثریت کے فیل ہوجانے کے سبب کراچی کے طلبا پر پروفیشنل تعلیم کے دروازے تقریباً بند ہوگئے ہیں۔رواں سال کے آخر اور آئندہ برس میں ہزاروں طلبا انجینیئرنگ اور میڈیکل کے ضابطوں میں داخلے نہیں لے سکیں گے کیونکہ این ای ڈی یونیورسٹی پری انجینیئرنگ کے تمام شعبوں میں انٹر سال کے نتائج کی بنیاد پر داخلے دیتی ہے۔ان داخلوں کے لیے رجحان ٹیسٹ میں شرکت کا اہل بھی وہی طالب علم ہوتا ہے جس نے کم از کم 60 فیصد مارکس کے ساتھ انٹر سال اول میں کامیابی حاصل کی ہو جبکہ پری میڈیکل کے رجحان ٹیسٹ کے لیے بھی ضروری ہے کہ طلبا کے انٹرمیڈیٹ میں حاصل کردہ مارکس 60 فیصد ہوں لہٰذا یہ سوال بازگشت کررہا ہے کہ اس بیچ کے کراچی کے طلبا ڈاکٹر اور انجینیئرز کیسے بنیں گے۔حالیہ نتائج میں 60 فیصد اور اس سے زائد مارکس پر انٹر سال اول پاس کرنے والوں کی تعداد محدود ہے کیونکہ انٹر سال اول پڑی میڈیکل میں کامیابی کا تناسب تقریباً 36 فیصد جبکہ پری انجینیئرنگ میں 34 فیصد ہے اور بالترتیب دونوں فیکلٹیز میں 64 فیصد اور 66 فیصد طلبا پاس ہوئے ہیں۔اتنی بڑی تعداد میں طلبا کے فیل ہوجانے کے سبب یہ طلبا پری انجینیئرنگ میں داخلوں کے لیے درخواست دینے کے اہل ہی نہیں ہوں گے۔سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ فوری اس پر سو موٹو ایکشن لیں اور کراچی کے تعلیمی بورڈ ز میں سالہاسال سے نتائج کی تبدیلی میں ملوث مافیاز کی سرکوبی کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!