کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد کے جعلی پتے اور نام استعمال کرکے عوام کو گمراہ کرنے والی 61 ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف فوری کارروائی کے لیے متعلقہ اداروں سے رجوع کر لیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور قطری ہم منصب شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال
رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے نے انکشاف کیا ہے کہ 34 نجی ہاؤسنگ اسکیمیں اپنے منصوبوں کے ساتھ “اسلام آباد” اور “کیپیٹل” جیسے الفاظ غیر قانونی طور پر استعمال کر رہی ہیں، جبکہ 27 سوسائٹیز خود کو اسلام آباد کے مخصوص سیکٹرز سے منسلک ظاہر کرتی ہیں، حالانکہ یہ منصوبے دارالحکومت کی حدود سے باہر واقع ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق متعدد ہاؤسنگ پراجیکٹس دراصل راولپنڈی، ٹیکسلا، فتح جنگ، اٹک اور پنجاب کے دیگر قریبی علاقوں میں موجود ہیں، مگر اشتہارات میں انہیں اسلام آباد کا حصہ دکھا کر خریداروں کو گمراہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہ یہ سمجھیں کہ یہ منصوبے سی ڈی اے سے منظور شدہ ہیں۔
سی ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد کی باضابطہ شہری حدود سیکٹر A-17 سے I-17 تک محدود ہیں، اور اس کے بعد آنے والے علاقے اسلام آباد کا حصہ نہیں سمجھے جاتے۔
اتھارٹی نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی ہاؤسنگ منصوبے میں سرمایہ کاری سے قبل اس کی قانونی حیثیت، اسلام آباد کی حدود میں موجودگی اور متعلقہ اداروں سے منظوری کی مکمل تصدیق ضرور کریں تاکہ مالی نقصان اور دھوکہ دہی سے بچا جا سکے۔
سی ڈی اے کے مطابق اس معاملے میں عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے سخت قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے اور متعلقہ اداروں سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
