امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف ممکنہ جنگی کارروائیوں کے لیے عراق کے صحرائی علاقے میں ایک خفیہ فوجی اڈہ قائم کیا تھا، جسے حساس عسکری آپریشنز اور لاجسٹک سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
سی ڈی اے کا بڑا ایکشن، اسلام آباد کا نام استعمال کرنے والی 61 ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
رپورٹ کے مطابق اس خفیہ اڈے پر اسرائیلی اسپیشل فورسز تعینات تھیں، جبکہ یہ اڈہ اسرائیلی فضائیہ کے لیے ایک اہم لاجسٹک اور معاون مرکز کے طور پر بھی کام کر رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق یہاں سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھی موجود تھیں تاکہ کسی ہنگامی صورتحال، خصوصاً اسرائیلی پائلٹ کے طیارہ گرنے کی صورت میں فوری امدادی کارروائیاں کی جا سکیں۔
اخبار کے مطابق مارچ کے آغاز میں عراقی فوج اس مشتبہ اڈے کے قریب پہنچ گئی تھی، تاہم بعد ازاں صورتحال کشیدہ ہونے پر مبینہ طور پر فضائی حملوں کے ذریعے عراقی اہلکاروں کو علاقے سے دور رکھا گیا تاکہ اس تنصیب کا راز فاش نہ ہو سکے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ خفیہ سرگرمیاں خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ مشرق وسطیٰ میں پہلے سے جاری پیچیدہ جیو پولیٹیکل صورتحال کو مزید حساس اور خطرناک بنا سکتے ہیں۔
