آرٹس کونسل کراچی کے زیر اہتمام تین روزہ “آرٹس المنائی فیسٹیول 2026” کا شاندار افتتاح، 55 فارغ التحصیل طلبہ کو اسناد و اعزازات سے نوازا گیا

کراچی (08 مئی 2026):- آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام تین روزہ “آرٹس المنائی فیسٹیول 2026” کا رنگا رنگ اور شاندار افتتاح احمد پرویز آرٹ گیلری میں کر دیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں معروف مزاح نگار و دانشور انور مقصود نے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کے ہمراہ “المنائی آرٹ نمائش” کا ربن کاٹ کر باقاعدہ آغاز کیا۔

ناردرن بائی پاس پر قائم “عوام دوست منڈی” میں ریکارڈ توڑ رش، قربانی کے جانوروں کی تعداد سوا لاکھ سے تجاوز

تقریب میں آرٹس کونسل کے نائب صدر منور سعید، سیکریٹری اعجاز فاروقی، کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، ناروے کی فنکارہ Karen Houge، معروف مصور شاہد رسام، فائن آرٹ کمیٹی کے چیئرمین فرخ شہاب سمیت فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات اور بڑی تعداد میں طلبہ و فنکار شریک ہوئے۔

نمائش میں اسکول آف ویژول اینڈ پرفارمنگ آرٹس کے 19 المنائی طلبہ کے تیار کردہ 31 دلکش اور منفرد فن پارے شائقین کی توجہ کا مرکز بنے، جن میں جواد احمد جان، ریشماں خان، ردا علی شاہ، محمد جواد حسن، حبیبہ مجیب الرحمن، کرن اسلم، کبیر عطا محمد، یاسر نور، شہزاد بلوچ اور دیگر فنکار شامل تھے۔

فیسٹیول کے دوران اسکول آف ویژول اینڈ پرفارمنگ آرٹس کے دوسرے کانووکیشن کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں 55 فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو اسناد اور اعزازات سے نوازا گیا۔ ان میں تھیٹر، میوزک، فائن آرٹ، کمیونیکیشن ڈیزائن اور ٹیکسٹائل ڈیزائن کے طلبہ شامل تھے۔

کانووکیشن میں عراق کے قونصل جنرل ڈاکٹر مہیر مجہد ججان، الائنس فرانسیز کے ڈائریکٹر Emmanuel Breurec، گوئٹے انسٹیٹیوٹ پاکستان کے ڈائریکٹر Andreas Schiekofer اور سینئر صحافی غازی صلاح الدین سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف مزاح نگار انور مقصود نے کہا کہ آرٹس کونسل واحد ادارہ ہے جہاں روزانہ تخلیقی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فنون لطیفہ کے طلبہ واقعی بہادر ہیں جو مشکل حالات میں بھی آرٹ کو اپناتے ہیں۔ انہوں نے آرٹس کونسل کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہاں نوجوانوں کو بہترین پلیٹ فارم فراہم کیا جا رہا ہے۔

صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ ادارے کی سب سے بڑی طاقت اس کے طلبہ ہیں، جو اس کی اصل انرجی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ نوجوان فنکاروں کو زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنا ٹیلنٹ دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔

کانووکیشن میں مختلف طلبہ نے شاندار پرفارمنس پیش کی، جن میں کلاسیکل موسیقی، وائلن انسٹرومنٹل، بلوچی گیت “یونس غلام رسول”، صوفی کلام “نعرہ مستانہ” اور داستان گوئی شامل تھی۔ اویس اور عمران فرحان نے پطرس بخاری کے مشہور مضمون “کتے” کو منفرد انداز میں پیش کر کے سامعین سے خوب داد وصول کی۔

فیسٹیول کے پہلے روز کا اختتام تھیٹر پلے “ڈریم گرل” پر ہوا، جسے ناروے کی فنکارہ Karen Houge نے پیش کیا۔ یہ منفرد سولو شو ان کی حقیقی زندگی کے تجربات پر مبنی تھا، جسے کہانی، مزاح، کلاوننگ اور سامعین کے ساتھ براہ راست تعامل کے ذریعے پیش کیا گیا۔ حاضرین نے اس پرفارمنس کو بے حد سراہا۔

فیسٹیول 10 مئی تک جاری رہے گا، جس میں تھیٹر، موسیقی، کلاسیکل و فوک ڈانس، لائیو پرفارمنس، آرٹ نمائش اور مکالماتی نشستوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ منتظمین کے مطابق اس فیسٹیول کا مقصد سابق طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا، ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا اور نئے فنکاروں کو سیکھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

One thought on “آرٹس کونسل کراچی کے زیر اہتمام تین روزہ “آرٹس المنائی فیسٹیول 2026” کا شاندار افتتاح، 55 فارغ التحصیل طلبہ کو اسناد و اعزازات سے نوازا گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!