آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے اپنے مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں ملک بھر کے ہزاروں پیٹرول پمپس بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے، جس کے نتیجے میں ممکنہ فیول بحران کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Wednesday, 25th March 2026
ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک سے فوری ملاقات کے لیے باضابطہ مراسلہ ارسال کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ 6 مارچ کو بھی ایک مراسلہ بھیجا گیا تھا تاہم تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
مراسلے میں پیٹرولیم سیکٹر کو درپیش سنگین مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آپریشنل اخراجات میں اضافہ، مالی مشکلات، قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور اچانک پالیسی تبدیلیاں صنعت کے لیے بڑے چیلنجز بن چکی ہیں۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پالیسی سازی کے عمل میں اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرے اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جائے۔
اعلامیے کے مطابق ملک بھر میں 14 سے 15 ہزار پیٹرول پمپ مالکان کو مختلف مسائل کا سامنا ہے، جنہیں فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر مطالبات منظور نہ کیے گئے تو وہ ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔
پیٹرول پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ بندش کے نتیجے میں ملک میں شدید ایندھن بحران پیدا ہو سکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری وزارتِ پیٹرولیم پر عائد ہوگی۔
