کراچی میں ڈسٹرکٹ سٹی پولیس کے ایس ایس پی سید علی حسن کی زیر صدارت ہیڈ محررز کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تھانوں کی کارکردگی، نفری کی تعیناتی اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
شیری رحمٰن کے گھر سیاسی قیادت کی آمد، ماروی ملک کے انتقال پر اظہار تعزیت
اجلاس کے دوران ایس ایس پی سٹی نے تمام ہیڈ محررز سے نفری کی موجودہ صورتحال اور اسٹرینتھ سے متعلق جامع رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ شہر کے حساس اور جرائم سے متاثرہ ہاٹ اسپاٹ علاقوں میں شاہین فورس کی مؤثر تعیناتی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی کانسٹیبل کو داخلی ڈیوٹی (انٹری پوائنٹس) پر تعینات نہیں کیا جائے گا، جبکہ تمام چھٹیوں کا ریکارڈ منظم رکھنے کے لیے ایس ڈی پی اوز کی جانب سے جاری کی جانے والی چھٹیوں کی کاپی ایس ایس پی آفس کو بھی فراہم کرنا لازمی ہوگی۔
ایس ایس پی سید علی حسن نے سرکاری املاک کی حفاظت اور صفائی پر خصوصی زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام تھانوں میں موجود سرکاری اثاثوں کا مکمل خیال رکھا جائے۔ انہوں نے ایم ٹی او کو ہدایت دی کہ خراب سرکاری موٹر سائیکلز کو فوری طور پر مرمت کر کے قابلِ استعمال بنایا جائے تاکہ گشت کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔
اجلاس میں آئی آئی چندریگر روڈ سمیت اہم مقامات پر پولیس کی مناسب اور مؤثر تعیناتی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ ایس ایس پی سٹی نے ہدایت کی کہ روزنامچہ کا آغاز ہیڈ محرر خود کرے گا اور نفری کی تعیناتی ایک مخصوص اور یکساں پیٹرن کے تحت کی جائے گی۔
مزید برآں، تھانوں سے نفری روانہ کرتے وقت اس کی تصویر متعلقہ گروپ میں شیئر کرنا لازمی قرار دیا گیا تاکہ شفافیت اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔
ایس ایس پی سٹی نے اعلان کیا کہ ایک ہفتے بعد تمام ہیڈ محررز کا دوبارہ اجلاس طلب کیا جائے گا، جس میں جاری ہدایات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔
