ٹرمپ اور عاصم منیر رابطہ، ایران کشیدگی پر سفارتی سرگرمیاں تیز

واشنگٹن/اسلام آباد: وائٹ ہاؤس نے ایران کے معاملے پر امریکی صدر Donald Trump اور پاکستان کے آرمی چیف Syed Asim Munir کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سفارتی رابطوں میں مزید تیزی آ گئی ہے۔
ایس ایس پی سٹی کی ہدایات، نفری تعیناتی اور نظم و ضبط سخت کرنے کا فیصلہ

وائٹ ہاؤس کی ترجمان Karoline Leavitt نے میڈیا بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ اس نوعیت کی بات چیت حساس سفارتی عمل کا حصہ ہوتی ہے، اور امریکا ایسے معاملات پر میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ ملاقاتوں یا دوروں سے متعلق قیاس آرائیوں کو اس وقت تک حتمی نہیں سمجھا جانا چاہیے جب تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے باضابطہ اعلان نہ کیا جائے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے پاکستان کے ذریعے ایران کو 15 نکات پر مشتمل پیغام بھی پہنچایا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پس پردہ سفارتی چینلز فعال ہیں اور صورتحال کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسی تناظر میں امریکی نمائندہ خصوصی برائے جنوبی ایشیا Steve Witkoff اور صدر ٹرمپ کے داماد Jared Kushner کے ممکنہ دورۂ اسلام آباد سے متعلق بھی چہ مگوئیاں جاری ہیں، تاہم تاحال اس حوالے سے کسی بھی سطح پر باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب پاکستان اور ایران کے درمیان بھی اعلیٰ سطح پر رابطے جاری ہیں۔ گزشتہ روز وزیراعظم Shehbaz Sharif اور ایرانی صدر Masoud Pezeshkian کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا گیا اور تعمیری تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید برآں، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر فریقین رضامند ہوں تو پاکستان اس حساس معاملے میں ثالثی اور مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ مبصرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر یہ پیش رفت اہم قرار دی جا رہی ہے، جو مستقبل میں کسی سفارتی حل کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

One thought on “ٹرمپ اور عاصم منیر رابطہ، ایران کشیدگی پر سفارتی سرگرمیاں تیز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!