Amnesty International اور انسانی حقوق کے ماہرین نے کہا ہے کہ Taliban کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے فوجداری قوانین کے باعث Afghanistan میں ریاستی جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایران نے بھارت کے دو بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق طالبان رجیم کے نئے ضوابط صنف، مذہب اور سماجی حیثیت کی بنیاد پر امتیاز کو قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں، جس کے باعث خواتین، مذہبی اقلیتیں اور اختلاف رائے رکھنے والے افراد شدید خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ان قوانین کے تحت طالبان قیادت پر تنقید کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے، جبکہ مذہبی اقلیتوں اور مخالفین کے خلاف امتیازی سزاؤں کو قانونی جواز دیا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق نئے فوجداری قوانین دراصل ریاستی سطح پر امتیاز اور جبر کو قانونی شکل دینے کی کوشش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کی پالیسیاں افغانستان کو انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان قوانین کے نتیجے میں خواتین کے خلاف امتیاز اور تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور انہیں سماجی و عوامی زندگی سے مزید دور کیا جا سکتا ہے۔
