کراچی: سیاسی و سماجی رہنما نياز حسین کوسو نے سندھ میں سرداری اور جاگیرداری نظام کو صوبے کے بڑھتے جرائم اور معاشرتی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نظام قتل و غارت، عزتوں کی پامالی، اغوا اور ڈکیتی کی وارداتوں کا باعث بن رہا ہے۔
کراچی: ایس ایس پی ایسٹ زبیر نزیر شیخ نے پولیس افسران و جوانوں کے ہمراہ افطار کیا
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کوسو نے الزام لگایا کہ سندھ کی معیشت بھی حکومتی گاڑیوں میں چل رہی ہے اور جس علاقے میں سردار زیادہ ہیں وہاں ظلم اور ناانصافی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سردار اپنے حلقوں میں امن قائم نہیں کر سکتے تو انہیں سرداری کا حق کس نے دیا؟
انہوں نے مزید کہا کہ روزانہ بیٹیوں کی عزتیں لُٹتی ہیں، نوجوان قتل کیے جاتے ہیں اور گھروں میں گھس کر لوگ یرغمال بنائے جاتے ہیں، اور یہ واقعات خاص طور پر جاگیرداری کے زیادہ مضبوط علاقوں میں پیش آتے ہیں۔ کوسو نے کہا کہ کئی سردار صرف اپنے حلقے کے ترقیاتی فنڈز استعمال کرتے ہیں، جنازوں میں شرکت کرتے ہیں اور جرائم کے مقامات پر تصاویر بنواتے ہیں۔
انہوں نے تھر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں غربت، پانی کی کمی اور بھوک ضرور ہے، لیکن لوگ سکون سے سوتے ہیں کیونکہ وہاں سرداری نظام نہیں ہے، اور یہی واضح کرتا ہے کہ ہر جرم کا اصل ذمہ دار جاگیرداری نظام ہے۔
کوسو نے کہا کہ عام آدمی کو کونسلر کی نشست بھی نہیں دی جاتی اور جو آواز بلند کرے اسے جھوٹے مقدمات یا جعلی پولیس مقابلوں میں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ سندھ کی حفاظت کرے، کیونکہ جاگیردار اور سردار صوبے کے لیے کینسر بن چکے ہیں اور عدالتیں بھی ان کے سامنے بے بس ہیں۔
