پاکستان نے باجوڑ میں دہشت گرد حملے کے بعد افغان ناظم الامور کو طلب کرکے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا اور افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال پر باضابطہ ڈی مارش کیا۔
8 فروری تک جمع نیٹ میٹرنگ درخواستیں پرانے قواعد کے تحت منظور کرنے کا حکم
ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کے مطابق 16 فروری کو باجوڑ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے حوالے سے افغان حکومت کو احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔ حملے میں 11 پاکستانی فوجی جوان شہید ہوئے تھے۔
ترجمان نے بتایا کہ یہ حملہ فتنہ الخوارج، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے کیا گیا۔ وزارتِ خارجہ نے ٹی ٹی پی کی قیادت کی افغانستان میں موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کی قیادت افغان سرزمین سے بلا روک ٹوک سرگرمِ عمل ہے۔
دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان عبوری حکومت کی یقین دہانیوں کے باوجود اب تک کوئی ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدام سامنے نہیں آیا۔ پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین سے سرگرم تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی یقینی بنائے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان فتنہ الخوارج اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
