کراچی میں گل پلازہ آتشزدگی کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے فائر سیفٹی انتظامات، دھویں کے اخراج اور ایمرجنسی اقدامات سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے۔ سماعت کے دوران جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیے کہ تیسرے درجے کی آگ میں درجہ حرارت 800 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے اور دنیا میں کوئی بھی حفاظتی سوٹ ایسے درجہ حرارت میں مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔
اے وی ایل سی کے سب انسپکٹر معطل، رشوت کے الزامات پر انکوائری شروع
عدالت کو بتایا گیا کہ عمارت میں شدید دھواں بھر گیا تھا جس کے باعث متعدد افراد دم گھٹنے سے جاں بحق ہوئے۔ جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ کیا دیوار توڑ کر دھواں باہر نکالنے کی کوشش نہیں کی جا سکتی تھی؟ انہوں نے کہا کہ دھویں کی موجودگی میں ماسک اور دیگر حفاظتی آلات کے ساتھ عمارت میں داخل ہونا ممکن ہوتا ہے، تاہم اصل مسئلہ دھویں کے اخراج کا تھا۔
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ تقریباً آٹھ ہزار اسکوائر فٹ پر تعمیر گل پلازہ کے گراؤنڈ اور میزانائن فلور پر بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ امکان ظاہر کیا گیا کہ کچھ افراد نے یہ سمجھا ہوگا کہ آگ پر قابو پا لیا جائے گا۔ بتایا گیا کہ آگ اے سی ڈکٹ کے ذریعے گراؤنڈ فلور سے بالائی منزلوں تک پھیلی۔
سماعت کے دوران انکشاف ہوا کہ دوسرے فلور پر موجود افراد مسجد کے راستے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے، تاہم ایک دکان سے بڑی تعداد میں انسانی باقیات ملیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ممکن ہے کسی نے لوگوں کو وہاں پناہ لینے کا کہا ہو۔ میزانائن فلور پر موجود افراد کی ہلاکتیں زیادہ تر دھویں کے باعث ہوئیں۔
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ وہ دن کے وقت گل پلازہ گئے تھے جہاں اندر کافی اندھیرا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب رات کے وقت لائٹس بند ہوئیں اور دھواں بھر گیا تو اس کا کیا اثر ہوا؟ حکام نے بتایا کہ ایس او پیز کے مطابق آگ لگنے کی صورت میں بجلی بند کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ مزید حادثات سے بچا جا سکے، تاہم ایسی صورت میں ایمرجنسی لائٹس فعال رہتی ہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ گل پلازہ میں ایمرجنسی لائٹس اور اندھیرے میں چمکنے والے رہنما اسٹیکرز موجود نہیں تھے، جس کے باعث گراؤنڈ فلور پر موجود افراد کو باہر نکلنے کا راستہ نہ مل سکا اور ہلاکتیں ہوئیں۔
فائر سیفٹی ذمہ داریوں پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ عمارت کی تعمیر کے وقت سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے اور فائر سیفٹی نظام کی جانچ اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ جبکہ سول ڈیفنس سالانہ بنیادوں پر فائر آڈٹ کرتا ہے اور گل پلازہ کا بھی دورہ کرکے رپورٹ دی تھی۔
آگ لگنے کی صورت میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) اور ریسکیو 1122 رسپانس دیتے ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ متعلقہ ادارے کے پاس تین فائر اسٹیشن اور سات فائر ٹینڈر ہیں جبکہ کے ایم سی کے پاس 27 اسٹیشن اور 42 فائر ٹینڈر موجود ہیں، اس کے علاوہ اسنارکل اور دیگر خصوصی گاڑیاں بھی کے ایم سی کے پاس دستیاب ہیں۔
حکومت کی جانب سے آگ بجھانے کا مشترکہ نظام تشکیل دینے پر بھی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو سوالنامہ جاری کرتے ہوئے جامع رپورٹ طلب کرلی ہے۔

