جماعت اسلامی پاکستان کے سندھ اسمبلی پر دھرنے اور پولیس اہلکاروں پر مبینہ پتھراؤ کے معاملے پر رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق مقدمہ سرکار کی مدعیت میں تھانہ آرام باغ میں درج کیا گیا ہے۔
کراچی ایئرپورٹ کا نیا مین رن وے 07L/25R فعال، سیکرٹری دفاع نے افتتاح کردیا
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں امیر جماعت اسلامی ضلع جنوبی سفیان دلاور سمیت دیگر نامزد افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں ہنگامہ آرائی، بلوا، سرکاری امور میں مداخلت، تشدد اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی سمیت متعدد دفعات عائد کی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق مقدمے میں اقدام قتل، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور اہلکاروں کو حبسِ بے جا میں رکھنے کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کے دوران حالات کشیدہ ہوگئے تھے جس کے بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
پولیس نے مزید بتایا کہ مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت درج کیا گیا ہے اور نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

