کے ڈی اے لینڈ ڈیپارٹمنٹ پر اینٹی کرپشن کا چھاپہ، مشکوک پلاٹوں کی غیرقانونی ٹرانسفر کا انکشاف

کراچی — ادارہ ترقیات کراچی (KDA) تحقیقی اداروں کے ریڈار پر آ گیا، جب ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ امتیاز ابڑو کی سخت ہدایات پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے کے ڈی اے کے لینڈ ڈیپارٹمنٹ پر اچانک چھاپہ مار کر اہم ریکارڈ طلب کر لیا۔

ڈی آئی جی ٹریفک کراچی سے تاجران کا وفد ملاقات، مارکیٹ ایریاز میں ٹریفک مسائل کے حل پر غور

ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن کو شہریوں کی جانب سے پلاٹوں کی جعلی اور غیرقانونی ٹرانسفر سے متعلق متعدد سنگین شکایات موصول ہو رہی تھیں، جس کے بعد فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔ چھاپے کے دوران کلفٹن بلاک 5، کہکشاں سوسائٹی اور دیگر قیمتی علاقوں میں واقع مشکوک پلاٹوں کا مکمل ریکارڈ طلب کیا گیا اور اسی سلسلے میں لینڈ ڈیپارٹمنٹ میں سرپرائز وزٹ کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران کے ڈی اے لینڈ ڈیپارٹمنٹ مطلوبہ مخصوص پلاٹوں کا ریکارڈ فوری طور پر فراہم کرنے میں ناکام رہا، جس پر ادارے کی کارکردگی اور شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔ اینٹی کرپشن حکام نے ڈائریکٹر لینڈ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ عاطف نقوی سے تقریباً ایک گھنٹے طویل بات چیت کی اور متعدد پلاٹوں سے متعلق ریکارڈ طلب کیا، تاہم کے ڈی اے حکام نے 48 گھنٹوں کے اندر مکمل ریکارڈ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

چھاپے کی کارروائی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ساوتھ اینٹی کرپشن شاہنواز راہپوٹو اور انسپکٹر جاوید وہراہ بھی شامل تھے۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ کے افسران نے میڈیا سے گفتگو سے گریز کیا، تاہم یہ واضح کیا کہ کے ڈی اے میں پلاٹوں کی جعل سازی سے متعلق شکایات کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈی جی اینٹی کرپشن امتیاز ابڑو کی جانب سے دو ٹوک ہدایات ہیں کہ عوامی املاک پر کسی قسم کی جعل سازی برداشت نہیں کی جائے گی اور اس غیرقانونی سرگرمی میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی محض آغاز ہے اور آنے والے دنوں میں مزید انکشافات اور گرفتاریاں متوقع ہیں۔

WhatsApp Image 2026 02 10 at 6.42.05 PM

60 / 100 SEO Score

One thought on “کے ڈی اے لینڈ ڈیپارٹمنٹ پر اینٹی کرپشن کا چھاپہ، مشکوک پلاٹوں کی غیرقانونی ٹرانسفر کا انکشاف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!