کراچی — آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام حسینہ معین ہال میں اردو کے عظیم شاعر مرزا غالب کی یاد میں "بیادِ غالب” کے عنوان سے خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں معروف شاعرہ زہرا نگاہ اور ممتاز دانشور و نقاد ڈاکٹر خورشید رضوی نے مرزا غالب کی شخصیت، فکر اور فن پر تفصیلی گفتگو کی، جبکہ تقریب کی نظامت کے فرائض صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے انجام دیے۔ تقریب میں فن و ادب سے وابستہ متعدد شخصیات بشمول فاطمہ حسن، شاہد رسام، ہما میر، امجد شاہ اور مظہر عباس بھی موجود تھیں۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ویسٹ پولیس کی کامیاب کارروائیوں پر خراجِ تحسین پیش کیا
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زہرا نگاہ نے کہا کہ غالب وہ شاعر ہیں جنہیں پوری دنیا جانتی ہے، اور ان پر کم از کم تین سو کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ غالب کی شاعری ہر لفظ میں معنی رکھتی ہے اور ان کے خطوط 1857 کے عہد کی تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ زہرا نگاہ نے مزید کہا کہ غالب کی زندگی میں خواہشات کے باوجود حالات نے انہیں مکمل کامیابی نہیں دی، لیکن ان کی شاعری آج بھی زندہ اور جاندار ہے۔
ڈاکٹر خورشید رضوی نے مرزا غالب کو اردو ادب کی غیر معمولی شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ غالب کی شاعری اور نثر دونوں میں منفرد اسلوب ہے، اور اردو ادب میں غالب جیسا کوئی اور شاعر نہیں۔ انہوں نے غالب کے خطوط کی برجستگی، سادگی اور قدرتی روانی کو نمایاں کیا اور کہا کہ غالب نے فارسی زبان میں بھی کمال مہارت حاصل کی۔
صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ مرزا غالب نے اردو ادب میں روایتی شاعری سے ہٹ کر نیا راستہ اپنایا، اور ان کے خطوط محض خطوط نہیں بلکہ ان کی مکمل سوانح عمری کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے معروف محقق رشید حسن صدیقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مغلوں نے ہندوستان کو تین بڑی چیزیں دی، جن میں اردو زبان، مرزا غالب، اور تاج محل شامل ہیں۔
تقریب کے دوران زہرا نگاہ نے غالب کے اشعار سنائے اور اختتام پر صدر آرٹس کونسل نے زہرا نگاہ اور ڈاکٹر خورشید رضوی کو گلدستے پیش کیے۔
