راولپنڈی — آئی ایس پی آر کے مطابق 9ویں بین الاقوامی پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ (PATS) مقابلہ 9 فروری 2026 کو کھاریاں میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ اختتامی تقریب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، NI (M) HJ، چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف (CDF) نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
ٹیم اسپرٹ مقابلہ ایک 60 گھنٹے طویل گشتی مشق ہے، جس کا مقصد حصہ لینے والی ٹیموں کے درمیان اختراعی خیالات، حکمتِ عملی کے تجربات اور بہترین عسکری طریقہ کار کے تبادلے کے ذریعے پیشہ ورانہ فوجی مہارتوں کو فروغ دینا ہے۔ یہ مشق 5 فروری 2026 سے پنجاب کے نیم پہاڑی علاقے میں جاری رہی، جہاں حقیقت پسندانہ اور چیلنجنگ آپریشنل ماحول فراہم کیا گیا۔
گزشتہ برسوں میں PATS ایک باوقار اور انتہائی مسابقتی کثیر القومی فوجی مشق کی حیثیت اختیار کر چکی ہے، جو شریک ممالک کے درمیان پیشہ ورانہ تعاون، باہمی سیکھنے اور فوجی سے فوجی روابط کو مضبوط بنانے کا مؤثر ذریعہ بن چکی ہے۔ یہ فورم نہ صرف آپریشنل تیاریوں کو بہتر بناتا ہے بلکہ ٹیم اسپرٹ، یکجہتی اور باہمی اعتماد کو بھی فروغ دیتا ہے۔
اس سال مقابلے میں بحرین، بنگلہ دیش، بیلاروس، مصر، عراق، اردن، سعودی عرب، ملائیشیا، مالدیپ، مراکش، نیپال، قطر، سری لنکا، ترکی، امریکہ اور ازبکستان سمیت 19 ممالک کی ٹیموں نے شرکت کی، جبکہ انڈونیشیا، میانمار اور تھائی لینڈ بطور مبصر شریک ہوئے۔ مشق میں پاک فوج اور پاک بحریہ کی 16 ملکی ٹیموں کے ساتھ پاک فضائیہ کے مبصرین نے بھی شرکت کی۔
اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تمام ٹیموں کی غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت، جسمانی و ذہنی برداشت، آپریشنل صلاحیت اور اعلیٰ حوصلے کو سراہا۔ انہوں نے کثیر القومی مشقوں کو جدید جنگی تقاضوں کے مطابق اجتماعی تیاریوں کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
انہوں نے پاک فوج کی بنیادی اقدار “کردار، جرات اور قابلیت” پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہی وہ اوصاف ہیں جو پاکستانی سپاہیوں کو خصوصاً دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں نمایاں کرتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے شرکاء میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔ بین الاقوامی مبصرین اور دفاعی اتاشیوں نے بھی مشق کے اعلیٰ معیار، تنظیم اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط کی بھرپور تعریف کی۔
بعد ازاں COAS اور CDF نے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سنٹر پبی میں تربیتی سرگرمیوں کا معائنہ کیا، جہاں نئے قائم کردہ ٹیکٹیکل سمیلیٹر کا دورہ بھی شامل تھا۔ انہوں نے سمیلیٹر پر مبنی تربیت کو روایتی عسکری تربیت کا مؤثر معاون قرار دیتے ہوئے افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے اہم قرار دیا۔
