کراچی — سندھ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (SPPRA) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا 46واں اجلاس کراچی میں منعقد ہوا، جس کی صدارت صوبائی وزیر قانون و داخلہ اور چیئرمین SPPRA بورڈ ضیاء الحسن لنجار نے کی۔
فیروزآباد پولیس کا طارق روڈ کے قریب کار لفٹرز کے خلاف چھاپہ، دو ملزمان زخمی حالت میں گرفتار
اجلاس میں سرکاری پروکیورمنٹ کے نظام، پالیسی اصلاحات اور ادارہ جاتی شفافیت سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیر داخلہ سندھ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شفاف، مؤثر اور جوابدہ پروکیورمنٹ سسٹم ہی گڈ گورننس کی بنیاد ہے اور پروکیورمنٹ کے تمام مراحل کو قانون اور قواعد کے مطابق چلانا حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے۔
ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ ای پروکیورمنٹ اور ڈیجیٹل اصلاحات سے بدعنوانی کے امکانات کم ہوں گے اور شفافیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرکاری وسائل کے درست اور بروقت استعمال کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، جبکہ پروکیورمنٹ قوانین پر عملدرآمد میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
اجلاس میں پالیسی سازی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ SPPRA کے کردار کو عوامی اعتماد اور مالی نظم و ضبط کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔
SPPRA بورڈ کے 46ویں اجلاس کے اہم فیصلے:
-
ای-پاک ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (EPADS) کے فوری نفاذ پر زور
-
پروکیورنگ ایجنسیوں اور بولی دہندگان کے مسائل کے حل کے لیے خصوصی EPADS ہیلپ ڈیسک کے قیام کی ہدایت
-
مالی سال 2025-26 کے لیے SPPRA کے سالانہ بجٹ کی منظوری
-
عوامی اثاثوں کو ٹھکانے لگانے (Disposal of Public Assets) کے مجوزہ قواعد کی منظوری
-
قانونی معاملات میں معاونت کے لیے ماہر لیگل کونسل کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ
-
پروکیورنگ ایجنسیوں اور بولی دہندگان کی پیشہ ورانہ تربیت اور استعداد کار بڑھانے پر خصوصی توجہ
-
مؤثر نگرانی اور بروقت فیصلوں کے لیے بورڈ اجلاس سہ ماہی بنیادوں پر منعقد کرنے کا فیصلہ
