کراچی — شیعہ علماء کونسل کے رہنما علامہ ناظر تقوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں مسجد پر ہونے والا حملہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ گزشتہ پچیس برسوں سے پاکستان کے مختلف صوبوں میں جلوسوں، میلاد اور مذہبی اجتماعات کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی ایک منظم نیٹ ورک کی صورت اختیار کر چکی ہے، جہاں دہشت گرد اپنی مرضی سے اہداف کا تعین کرتے ہیں اور ریاستی رٹ کمزور نظر آتی ہے۔ علامہ ناظر تقوی کا کہنا تھا کہ پچیس سالوں میں قوم کو کیا ملا؟ کون سے دہشت گردوں کو واقعی سزا دی گئی؟ ایک بھی بڑا دہشت گرد نیٹ ورک جڑ سے ختم نہیں کیا جا سکا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مختلف دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں، مگر یہ واضح نہیں کہ یہ کہاں بنتے ہیں، ان کی آماجگاہیں کہاں ہیں اور ان کا نیٹ ورک کس طرح ملک بھر میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہوں نے خود دہشت گردوں کو جیلوں سے فرار ہوتے دیکھا ہے، جو ریاستی کمزوری کا واضح ثبوت ہے۔
علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ اسلام آباد جیسے ہائی سیکیورٹی شہر میں مسجد پر حملہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیکیورٹی نظام ناکام ہو چکا ہے، تو پھر دیگر صوبوں کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ 15 فروری بروز اتوار خراسان چوک سے تبت سینٹر تک اسلام آباد میں دہشت گردی کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی جائے گی، جس میں تمام مسالک کے افراد شرکت کریں گے۔ ریلی کے ذریعے شہداء سے اظہارِ یکجہتی اور دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد کا پیغام دیا جائے گا۔
