کراچی (06 فروری 2026) — انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کچہ کے علاقوں میں ’’نجاتِ مہران‘‘ کے نام سے جاری آپریشن کو مزید سخت اور فیصلہ کن بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقدہ پریس بریفنگ کے دوران ایڈیشنل آئی جی آپریشنز کے ہمراہ میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ یکم جنوری سے کچہ کے علاقوں میں ریاستی رٹ کے قیام، اغوا برائے تاوان، ڈاکوؤں کی سرگرمیوں اور منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے کے لیے بھرپور آپریشن جاری ہے۔
آئی جی سندھ نے بتایا کہ حکومت سندھ کی مکمل سرپرستی اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی ہدایات پر سندھ پولیس، پاکستان رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت مربوط کارروائیاں کیں۔ انہوں نے کہا کہ دشوار جغرافیائی حالات، موسمی رکاوٹوں اور جدید اسلحہ سے لیس جرائم پیشہ عناصر کے باوجود فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کے ساتھ نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
آئی جی سندھ کے مطابق ایک ماہ کے دوران 113 پولیس مقابلوں میں 27 ڈاکو مارے گئے، 82 زخمی ہوئے، 77 گرفتاریاں عمل میں آئیں جبکہ 123 ڈاکوؤں نے خود کو قانون کے حوالے کیا۔ اس دوران اغوا کاروں کے چنگل سے 15 شہریوں کو بحفاظت بازیاب بھی کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کچہ کے علاقے طویل عرصے سے اغوا برائے تاوان، ہنی ٹریپ، قبائلی تنازعات اور غیر قانونی اسلحہ کی وجہ سے جرائم کا مرکز بن چکے تھے، تاہم اب ان علاقوں کو نوگو ایریاز سے نکال کر پرامن اور ترقی یافتہ خطوں میں تبدیل کرنے کی عملی کوششیں جاری ہیں۔
آئی جی سندھ نے بتایا کہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی سرحدی پٹی میں موجود جرائم پیشہ نیٹ ورکس سے نمٹنے کے لیے بین الصوبائی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے، فضائی نگرانی اور جدید سرویلنس نظام کو وسعت دی جا رہی ہے اور دیگر صوبائی اداروں کے ساتھ مربوط رابطے استوار کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کے بعد حکومت سندھ کے تعاون سے کچہ کے علاقوں میں معاشی، زرعی، تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی جائے گی، جس میں اسکولوں کے قیام، ترقیاتی منصوبوں کے آغاز اور فلاحی اداروں کو سہولت فراہم کرنا شامل ہے۔ آئی جی سندھ نے واضح کیا کہ جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف بھی بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی اور کسی کو قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
آخر میں آئی جی سندھ نے سندھ پولیس، پاکستان رینجرز اور دیگر فورسز کے افسران و جوانوں کی جرات و بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کچہ کے علاقوں سے جرائم کا مکمل خاتمہ اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے میڈیا کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے نمائندگان کو کچہ کے علاقوں کے دورے کی دعوت بھی دی۔
