کراچی — وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 21ویں سالانہ نمائش "میرا کراچی، اتحاد کا مرکز” سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نمائش اب صرف ایک ایونٹ نہیں بلکہ کاروبار، ثقافت اور کمیونٹی کے اشتراک کی ایک بڑی علامت بن چکی ہے۔ انہوں نے مرحوم سراج قاسم تیلی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے بلند درجات کے لیے دعا کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی پاکستان کا مالی و تجارتی مرکز ہے جو ملکی پیداوار کا تقریباً 25 فیصد اور سندھ کی معیشت کا 90 فیصد پیدا کرتا ہے، جبکہ کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم شہر کی تجارتی اہمیت میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کاوشوں سے شہر میں امن و استحکام آیا ہے، دہشت گردی میں کمی اور شہری نظم و نسق کی بحالی سے ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیکیورٹی ایک مستقل عمل ہے اور حکومت کراچی کے ہر شہری اور سرمایہ کار کو محفوظ بنانے تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔
انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کراچی کے مستقبل کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے اور قومی برآمدات میں کراچی کا حصہ بڑھانا حکومت کی ترجیح ہے۔ پیداواری صلاحیت میں اضافہ، برآمدی منڈیوں میں تنوع اور چھوٹے و بڑے کاروبار کے لیے ویلیو چین کو مضبوط بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے توانائی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ پاکستان کے توانائی ڈھانچے کی بنیاد ہے اور ملک کے قدرتی گیس وسائل کا تقریباً 65 فیصد سندھ پیدا کرتا ہے، تاہم گیس کی قلت کے باعث صنعتی پیداوار اور مسابقت متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ کی صنعتوں کے لیے منصفانہ توانائی کی فراہمی کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کے ساتھ اعتماد کی بحالی، پالیسی شفافیت اور کاروباری شراکت داری کو مضبوط کرے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ کراچی کی کامیابی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور حکومت، نجی شعبہ، سول سوسائٹی اور شہریوں کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔ آخر میں وزیراعلیٰ سندھ نے نمائش کے شرکاء، تاجروں اور انتظامیہ کو کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔
