کراچی: شہر میں غیر قانونی تعمیرات ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہیں، جہاں ڈسٹرکٹ ایسٹ کے پی ای سی ایچ ایس بلاک 2، پلاٹ نمبر J-23 پر نقشہ منظوری کے برخلاف بیسمنٹ، گراؤنڈ فلور اور دو اضافی منزلیں بنائی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا الزام ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
صدر موبائل مارکیٹ، النجیبی پلازہ میں آتشزدگی، ڈی آئی جی ٹریفک مظہر نواز شیخ موقع پر پہنچ گئے
ذرائع کے مطابق اس پلاٹ پر مبینہ طور پر 35 لاکھ روپے وصول کر کے غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دی گئی۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متعدد بار شکایات کے باوجود نہ تو تعمیرات رکوائی گئیں اور نہ ہی کسی افسر کے خلاف کارروائی کی گئی۔
شہریوں کے مطابق ڈسٹرکٹ ایسٹ میں ایک منظم تعمیراتی مافیا سرگرم ہے جو SBCA کے بعض اہلکاروں کی مبینہ سرپرستی میں بلڈنگ بائی لاز کی کھلی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ بغیر نقشہ منظوری، اضافی منزلیں اور غیر قانونی کمرشل تعمیرات شہریوں کی جان و مال کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسی تعمیرات شہر کے انفراسٹرکچر، سیوریج، پانی، بجلی اور ٹریفک نظام کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں، اور ماضی میں پیش آنے والے کئی المناک حادثات کی بنیادی وجہ بھی یہی غیر قانونی تعمیرات رہی ہیں۔
شہری حلقوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری اور چیئرمین SBCA سے مطالبہ کیا ہے کہ پی ای سی ایچ ایس اور ڈسٹرکٹ ایسٹ میں جاری غیر قانونی تعمیرات کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ دار افسران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور کراچی کو کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہونے سے بچایا جائے۔
ماہرین اور شہری خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو کراچی کو مستقبل میں ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
