چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)، سینیٹر روبینہ خالد نے بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسورس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ (بی بی ایس ایچ آر آر ڈی بی) کا دورہ کیا، جہاں ان کا پرتپاک استقبال بورڈ کے چیئرمین تمیزالدین کھیرو، سیکریٹری انجینئر منور علی مٹھانی، ریجنل کنسلٹنٹ انجینئر تیمور علی اور دیگر سینئر افسران نے کیا۔
آیت اللہ خامنہ ای کا خبردار: اگر امریکا ایران پر حملہ کرے تو جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی
دورے کے دوران چیئرپرسن بی آئی ایس پی کو بورڈ کے جاری اقدامات، منصوبوں اور تربیتی پروگراموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر بینظیر ہنرمند پروگرام پر خصوصی گفتگو ہوئی، جس کا مقصد مستحق خواتین اور ان کے اہلِ خانہ کو قابلِ فروخت مہارتوں سے آراستہ کرنا، پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنا اور باعزت و پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
بی آئی ایس پی اور بی بی ایس ایچ آر آر ڈی بی نے اس موقع پر باہمی تعاون اور ادارہ جاتی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ مستفید ہونے والے خاندانوں کے سماجی و معاشی بااختیار بنانے کے عمل کو فروغ دیا جا سکے۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سندھ میں بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والے خاندانوں کے افراد کے لیے جاری اسکلز ٹریننگ اقدام کے تحت بی بی ایس ایچ آر آر ڈی بی کے فیز سولہ (XVI) کے تربیتی پروگراموں میں اب تک پانچ ہزار سے زائد افراد کی رجسٹریشن ہو چکی ہے، جو ابتدائی ہدف تین ہزار شرکاء سے کہیں زیادہ ہے۔ اس اقدام کا مقصد مستحق خاندانوں کو روزگار کے قابل مہارتوں سے لیس کر کے خود کفالت کو فروغ دینا اور باعزت روزگار کے مواقع تک رسائی کو وسعت دینا ہے۔

