گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کے زیرِ اہتمام گورنر ہاؤس میں سانحہ گل پلازا کے شہداء کے اہلِ خانہ اور لواحقین کی داد رسی کے لیے خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ نے سانحہ کو شدید غفلت اور ناقص انتظامات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ “گل پلازا میں آگ لگتی رہی مگر بروقت کارروائی نہ کی گئی، جس کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔”
گورنر سندھ نے کہا کہ حادثے کے بعد مالی امداد دینا کافی نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ جان بچانے کا مؤثر نظام کہاں ہے؟ انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کو 70 فیصد ٹیکس دیتا ہے مگر شہر پر اس کے مطابق خرچ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا، جس کے باعث شہر مسلسل تباہی کی طرف جا رہا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے مطالبہ کیا کہ کراچی کے لیے فوری اور ٹھوس فیصلے کیے جائیں۔ گورنر سندھ نے اعلان کیا کہ وہ ہر شہید کے گھر جائیں گے اور متاثرہ خاندانوں کو پلاٹس فراہم کیے جائیں گے تاکہ ان کی بحالی ممکن ہو سکے۔
کامران خان ٹیسوری نے واضح کیا کہ سانحہ گل پلازا کے ذمہ داروں کو ہر صورت جواب دینا ہوگا، جبکہ اس واقعے میں متعلقہ یوسی اور ٹاؤن ناظمین کی نااہلی بھی شامل ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کے پی کے وزیر اعلیٰ کراچی کو اپنا شہر کہتے ہیں مگر سانحہ گل پلازا کے لواحقین کی عملی داد رسی نظر نہیں آتی۔
خطاب میں گورنر سندھ نے بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارتی اسپانسرڈ عناصر کا ہاتھ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور پاک فوج دشمن عناصر کو بھرپور جواب دیتی رہے گی۔
تقریب کے اختتام پر گورنر سندھ نے کہا کہ وہ عہدے کے نہیں بلکہ عوام کے دلوں کے گورنر بننا چاہتے ہیں اور عوامی خدمت ہی ان کا اصل مقصد ہے۔
