ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے تو اس کے نتائج پورے مشرق وسطیٰ اور خطے میں پھیل جائیں گے۔ ان کے اس بیان کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے حوالے سے مسلسل دھمکی آمیز بیانات جاری رہنے کے تناظر میں۔
ڈاکٹر رابعہ اختر کا آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام 2026 کے طلبہ سے خطاب — پاکستان کو خطے میں سلامتی کے استحکام کا اصل ضامن قرار دے دیا
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ امریکی صدر بار بار جنگی جہازوں کی روانگی کا ذکر کرتے ہیں، لیکن ایرانی قوم ایسی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوگی اور نہ ہی مرعوب ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی ملک پر حملہ کرنے کا آغاز نہیں کرتا اور ایسا کرنا نہیں چاہتا، لیکن اگر کسی نے ایرانی قوم پر حملہ کیا یا اسے ہراساں کیا تو ایران سخت جواب دے گا۔
انہوں نے کہا:
“ٹرمپ مسلسل کہتے ہیں کہ وہ جہاز لے آئے ہیں، لیکن ایرانی قوم ان باتوں سے نہیں ڈرے گی اور نہ ہی ان دھمکیوں سے مرعوب ہوگی۔”
واضح رہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی بحری موجودگی بڑھا دی ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق خطے میں اس وقت چھ ڈسٹرائرز، ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور تین لیٹورل کامبیٹ شپ تعینات ہیں، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
