کراچی (اسٹاف رپورٹر) – متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے مرکز بہادر آباد میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں رائج موجودہ طرزِ حکمرانی جابرانہ اور جاگیردارانہ ہے، جس نے صوبے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
گل پلازہ سانحے کی تحقیقات کے لیے سندھ کابینہ نے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ جب ایم کیو ایم نے سندھ کے حقوق کی بات کی تو تنقید کا سامنا کرنا پڑا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اب سنجیدہ ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی سطح پر سبز پاسپورٹ کی عزت بحال کرنے اور سفارتی محاذ پر کامیاب اقدامات کی تعریف کی، تاہم سندھ حکومت کی نااہلی ان تمام کوششوں پر پانی پھیر رہی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلاول بھٹو زرداری اور ان کی جماعت کراچی کے عوام کے ساتھ مخلصی دکھائیں اور آرٹیکل 140-اے پر عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہو سکیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے وفاقی حکومت اور مقتدر حلقوں سے اپیل کی کہ وہ کراچی کے معاملات میں ثالث (Arbitrator) بنیں اور ایک اعلیٰ سطح کا جوڈیشل کمیشن تشکیل دیں جو سندھ کے انتظامی و سیکیورٹی مسائل کا جائزہ لے۔
فاروق ستار نے ایم کیو ایم رہنماؤں کی سیکیورٹی کی واپسی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس ہیڈ کوارٹرز نے اطلاع دی کہ سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔ اگرچہ میڈیا رپورٹس کے بعد کچھ سیکیورٹی بحال کرنے کا عندیہ دیا گیا، مگر زمینی حقائق اب بھی تشویشناک ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر صوبائی حکومت سیکیورٹی فراہم نہیں کر سکتی تو اسلام آباد پولیس سے مدد لینے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ 18 ویں ترمیم چاروں صوبوں کے لیے تھی، نہ کہ صرف ایک خاندان کی حکمرانی کے لیے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ کراچی کو اس کے جائز حقوق دیے جائیں، ورنہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما حیدر عباس رضوی، شبیر قائمخانی، ارشد وہرہ سمیت اراکین قومی و صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے۔
