کراچی (اسٹاف رپورٹر) – جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کال پر کراچی کے علاقے بہادرآباد میں ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی دفتر کے باہر اطباء کرام نے مجوزہ TCAM ایکٹ 2025 کے متنازع قوانین کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرے میں شہر بھر سے طبِ یونانی سے وابستہ حکماء اور طبیبا بڑی تعداد میں شریک ہوئے اور اپنے پیشہ ورانہ حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی۔
مظاہرین نے کہا کہ TCAM ایکٹ اطباء کے حقوق اور صدیوں پر محیط طبِ یونانی کے نظام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایکٹ کو فوری طور پر واپس لیا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
احتجاج کی قیادت حکیم نسیم احمد قاسمی، حکیم مختیار برکاتی، حکیم سہل کاظم، حکیم معظم شیخ، حکیم نعمان انصاری، حکیم ابرار دہلوی، حکیم سعید قاسمی، حکیم عبد الرحمان ابدالی، طبیبہ صائمہ نسیم اور طبیبہ سائرہ رحمان نے کی، جبکہ دیگر سینئر حکماء بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔
مظاہرے کی اطلاع ملنے پر ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما خواجہ اظہار الحسن مظاہرین کے درمیان پہنچے اور متعلقہ وزارت سے فون پر رابطہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان TCAM ایکٹ کی سخت مخالفت کرتی ہے اور طبِ یونانی پر کسی قسم کی پابندی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اطباء کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ایم کیو ایم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
اس موقع پر حکیم ابرار دہلوی، انفارمیشن سیکریٹری کراچی ڈویژن پاکستان طبی کانفرنس نے کہا کہ تمام حکماء متحد ہیں اور طبِ یونانی کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ احتجاج کے اختتام پر شرکاء نے پاکستان طبی کانفرنس کے حق میں نعرے لگائے۔

