کراچی: حق پرست ڈپٹی پارلیمانی لیڈر طحہ احمد خان نے گل پلازہ کے المناک واقعے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس سانحے کی تحقیقات کے لیے فوری طور پر جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک جوڈیشل کمیشن نہیں بنایا جاتا، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) سندھ اسمبلی کا اجلاس چلنے نہیں دے گی۔
ایس آئی یو/سی آئی اے کراچی کی بڑی کارروائی، بین الصوبائی منشیات نیٹ ورک کے دو اہم سپلائرز گرفتار
طحہ احمد خان نے کہا کہ گل پلازہ کا واقعہ ایک انسانیت سوز سانحہ ہے جس نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ عمارت میں جلتے رہے مگر سندھ حکومت کا فائر بریگیڈ بروقت موقع پر نہیں پہنچ سکا، جو ریاستی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ اسمبلی میں صرف اپنی کہانی سنا کر پچھلے دروازے سے فرار ہو گئے اور اپوزیشن کے سوالات کا سامنا کرنے کی اخلاقی جرات کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق یہ سانحہ فرسودہ اور ناکام نظام کا نتیجہ ہے، جس کا شکار شہید فائر فائٹر فرقان بھی ہوئے۔
ڈپٹی پارلیمانی لیڈر نے کہا کہ گزشتہ سترہ برسوں میں سندھ میں برسراقتدار حکومت نے رشوت کے بازار کو گرم کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمشنر کراچی وزیراعلیٰ کا ذاتی ملازم بن چکا ہے، ایسے میں وہ شفاف انکوائری کیسے کر سکتا ہے۔
طحہ احمد خان نے مطالبہ کیا کہ جوڈیشل کمیشن قائم کر کے تمام ذمہ داران کو اس کے سامنے طلب کیا جائے تاکہ حقائق قوم کے سامنے آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صوبے کو وزیراعلیٰ نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کا کرپٹ نظام چلا رہا ہے۔
انہوں نے دوٹوک اعلان کیا کہ ایم کیو ایم گل پلازہ سانحے کو انصاف کے حصول تک دبنے نہیں دے گی اور متاثرین کو ہر صورت انصاف دلایا جائے گا۔
