سندھ میں کم آمدن والے افراد کو دو لاکھ سولر پینل فراہم کرنے کے منصوبے میں تین ارب روپے سے زائد مبینہ کرپشن سے متعلق قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ محکمہ توانائی سندھ کے اس منصوبے میں مالی بے ضابطگیوں کے انکشاف کے بعد نیب نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے۔
شدید برفباری کے باوجود پاک فوج کی ریلوے ٹریکس اور مسافر ٹرینوں کی فول پروف سیکیورٹی
ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے نوٹس موصول ہونے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے منصوبے سے متعلق تمام ریکارڈ اور تفصیلات نیب کو فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد تحقیقات کے دائرہ کار میں مزید وسعت متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹ حاصل کرنے والی کمپنی نے مبینہ طور پر کاغذات میں جعلسازی کرتے ہوئے کروڑوں روپے کی کرپشن کی۔ یہ منصوبہ ورلڈ بینک کے 10 کروڑ ڈالر کے قرض سے مکمل کیا جا رہا ہے، تاہم کنٹریکٹر نے منصوبے کے عملے کی مبینہ ملی بھگت سے مطلوبہ تعداد میں سولر یونٹس فراہم نہیں کیے جبکہ کاغذی کارروائی میں منصوبہ مکمل ظاہر کیا گیا۔
واضح رہے کہ ستمبر 2025 میں ایک نجی ٹی وی پروگرام کے دوران اینکر شہزاد اقبال نے سندھ سولر منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق اہم حقائق منظر عام پر لائے تھے، جس کے بعد معاملے نے مزید توجہ حاصل کی۔
نیب کے جاری کردہ انکوائری خط میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کو شفاف اور مؤثر انداز میں آگے بڑھنے دیا جائے، جبکہ اوورلیپنگ دائرہ اختیار یا قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مرحلے پر اس معاملے میں علیحدہ انکوائری نہ کرے۔
