پی سی ایچ ایس میں غیر قانونی تعمیرات کا طوفان، پلاٹ نمبر A-17 پر قوانین کی دھجیاں بکھیر دی گئیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر): کراچی کے حساس اور گنجان آباد علاقے پی سی ایچ ایس گلستانِ ظفر سوسائٹی میں غیر قانونی تعمیرات خطرناک حد تک بڑھ چکی ہیں، جہاں پلاٹ نمبر A-17، گلی نمبر 5 پر جاری تعمیراتی سرگرمیاں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قوانین، شہر کے ماسٹر پلان اور ٹاؤن پلاننگ کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کی واضح مثال بن چکی ہیں۔

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ نے کورنگی کازوے پل کا افتتاح، گل پلازہ متاثرین کے لیے امدادی اور تعمیرِ نو اقدامات کا اعلان

ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ پر بغیر منظور شدہ نقشے، اضافی منزلیں، غیر قانونی کمرشل استعمال اور سیٹ بیکس کی خلاف ورزی کے ساتھ تعمیرات جاری ہیں، جو نہ صرف رہائشی زون کے قوانین کے منافی ہیں بلکہ اطراف میں موجود عمارتوں اور مکینوں کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ تعمیرات دن رات جاری ہیں، جبکہ شکایات کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی۔

اہم بات یہ ہے کہ شہریوں کی جانب سے ان غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران، ڈی جی ایس بی سی اے اور صوبائی وزیر بلدیات کو باقاعدہ تحریری خطوط ارسال کیے جا چکے ہیں، جن میں تمام تر قانونی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تاہم تاحال نہ تو تعمیرات رکیں اور نہ ہی کسی ذمہ دار افسر کے خلاف کارروائی کی گئی، جس سے ایس بی سی اے کے کردار پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق مذکورہ تعمیرات سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس، ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز، ماحولیاتی قوانین اور حتیٰ کہ فوجداری قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ غیر قانونی تعمیرات نہ صرف شہری منصوبہ بندی کو تباہ کر رہی ہیں بلکہ مستقبل میں کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہیں، جس کی ذمہ داری براہِ راست متعلقہ افسران پر عائد ہو گی۔

علاقہ مکینوں کا الزام ہے کہ ایس بی سی اے کے بعض افسران کی مبینہ سرپرستی اور چشم پوشی کے باعث بلڈرز بے خوف ہو کر قانون شکنی کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر تعمیرات بند نہ کی گئیں تو وہ قانونی چارہ جوئی، عدالتی رجوع اور احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

شہری حلقوں اور سماجی تنظیموں نے وزیر بلدیات سندھ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پی سی ایچ ایس گلستانِ ظفر سوسائٹی میں جاری غیر قانونی تعمیرات کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ و قانونی کارروائی کی جائے، اور شہر میں بلڈنگ قوانین کی بلا امتیاز عملداری کو یقینی بنایا جائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے تو کراچی جیسے پہلے ہی مسائل زدہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات ایک سنگین شہری المیہ کی صورت اختیار کر سکتی ہیں۔

WhatsApp Image 2026 01 26 at 7.27.07 PM WhatsApp Image 2026 01 26 at 7.27.08 PM WhatsApp Image 2026 01 26 at 7.27.08 PM 1 WhatsApp Image 2026 01 26 at 7.27.08 PM 2 WhatsApp Image 2026 01 26 at 7.27.09 PM WhatsApp Image 2026 01 26 at 7.27.09 PM 1 WhatsApp Image 2026 01 26 at 7.27.09 PM 2 WhatsApp Image 2026 01 26 at 7.27.09 PM 3 WhatsApp Image 2026 01 26 at 7.27.10 PM WhatsApp Image 2026 01 26 at 7.27.10 PM 1 1 WhatsApp Image 2026 01 26 at 7.27.10 PM 2 WhatsApp Image 2026 01 26 at 7.27.10 PM 3 WhatsApp Image 2026 01 26 at 7.27.11 PM

66 / 100 SEO Score

2 thoughts on “پی سی ایچ ایس میں غیر قانونی تعمیرات کا طوفان، پلاٹ نمبر A-17 پر قوانین کی دھجیاں بکھیر دی گئیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!