اسلام آباد: سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے آئی ایس پی آر ونٹر انٹرنشپ 2026 کے طلبہ کے ساتھ خصوصی نشست میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے شدت پسند عناصر جھوٹے اور گمراہ کن بیانیے کے ذریعے مسلح گروہ اور جتھے تشکیل دے رہے ہیں۔
خیبر: وادی تیراہ میں 4 روزہ ریسکیو آپریشن کامیابی سے مکمل، مین روڈ آمدورفت بحال
انہوں نے کہا کہ یہ گروہ دلیل اور مکالمے پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ ان کی دلچسپی مفاہمت میں نہیں بلکہ تصادم اور بدامنی میں ہے، ایسے عناصر کو جواب دینا ریاستی اداروں کا آئینی اور قانونی حق ہے۔
علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے بتایا کہ پاکستان افواج محدود بجٹ اور وسائل کے باوجود مؤثر حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت بلوچستان میں چند اسکول اور ہسپتال موجود تھے، جبکہ آج ہزاروں اسکول، درجنوں یونیورسٹیاں اور سینکڑوں ہسپتال فعال ہیں۔ کاروباری اور سیاسی شعبے میں مقامی افراد نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں اور وفاقی حکومت مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔
افغانستان کے ساتھ قانونی تجارت کے بارے میں بات کرتے ہوئے سینیٹر کاکڑ نے کہا کہ تجارت صرف قانونی طریقے سے ہی ممکن ہے اور اسمگلنگ کے خاتمے سے براہِ راست فائدہ پاکستانی عوام کو پہنچے گا۔
سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے زور دیا کہ بلوچستان میں مفاہمت، ہم آہنگی اور ترقی کے لیے ریاست، میڈیا اور عوام سب کو مشترکہ ذمہ داری نبھانی ہوگی تاکہ منفی بیانیے کا مؤثر توڑ کیا جا سکے اور پائیدار امن قائم ہو۔
