کراچی (22 جنوری 2026): اسپیشل انویسٹیگیشن یونٹ/سی آئی اے کراچی نے بھتہ خوری میں ملوث عناصر کے خلاف دو اہم اور کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے مختلف علاقوں سے چار انتہائی مطلوب بھتہ خور گرفتار کرلیے۔ یہ بات ایس ایس پی ایس آئی یو/سی آئی اے کراچی کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتائی گئی۔
فائر سیفٹی قوانین پر سخت عملدرآمد، سندھ بھر میں 35 عمارتوں کا معائنہ، نوٹس جاری
پہلی کارروائی کے دوران ایس آئی یو/سی آئی اے نے یاسین آباد عزیز آباد کی حدود میں چھاپہ مار کر دو مطلوب بھتہ خوروں کو گرفتار کیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت محمد فہیم اور محمد عامر کے نام سے ہوئی ہے، جو بدنام زمانہ بھتہ خور گروہ کے سرغنہ صمد کاٹھیاواڑی کے اہم کارندے بتائے جاتے ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمان نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں کپڑے کے ایک تاجر سے 50 لاکھ روپے بھتہ طلب کرنے کے مقدمے میں ملوث ہیں۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ صمد کاٹھیاواڑی ایران سے تاجروں کو فون کر کے بھتے کا مطالبہ کرتا تھا جبکہ کراچی میں یہ ملزمان اس کے نیٹ ورک کو چلاتے تھے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم محمد فہیم کے خلاف مختلف تھانوں میں قتل، بھتہ خوری، دہشت گردی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے سمیت متعدد سنگین مقدمات درج ہیں، جبکہ دیگر ریکارڈ کی بھی جانچ جاری ہے۔
دوسری کارروائی میں ایس آئی یو/سی آئی اے کراچی نے اسلامیہ کالج کے قریب جمشید کوارٹر کے علاقے سے دو مزید مطلوب بھتہ خوروں کو گرفتار کیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت زرار خان اور زوہیب بگٹی کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے بن قاسم کے علاقے میں ایک کمپنی کے ڈائریکٹر سے 20 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا تھا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے بھتے میں استعمال ہونے والا موبائل فون اور سم بھی برآمد کرلی گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہیں جبکہ مزید مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ اور تفتیش کا عمل جاری ہے۔ ایس ایس پی ایس آئی یو/سی آئی اے نے واضح کیا کہ شہر میں بھتہ خوری کے نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

