ڈی آئی جی ٹریفک کراچی سید پیر محمد شاہ نے مقامی ہوٹل میں منعقدہ مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے کراچی ٹرانسپورٹ کے سلگتے مسائل اور ان کے حل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ٹریفک حادثات کے اعداد و شمار کے مطابق 814 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، تاہم مؤثر اقدامات کے باعث اگلے تین ماہ میں حادثات کی شرح بتدریج کم ہوئی اور ہر ماہ اوسطاً 23 قیمتی جانیں بچانے میں کامیابی حاصل کی گئی۔
ڈی آئی جی ٹریفک کے مطابق کراچی میں ہیوی ٹریفک ایک بڑا مسئلہ رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ گاڑیوں کی فٹنس نہ ہونا تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہیوی ٹریفک میں تیز رفتاری اور بروقت بریک نہ لگنا بڑے حادثات کا سبب بنتا ہے، جس کے پیش نظر ڈرائیورز کو خصوصی تربیت دی گئی، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ٹریفک کا سب سے بڑا مسئلہ 16 ویلر ٹرالر ہیں، جب یہ دو بھی سڑک پر آ جائیں تو ٹریفک مکمل طور پر جام ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق دوسرا بڑا مسئلہ گاڑیوں کی فٹنس ہے، کیونکہ شہر میں تقریباً 70 فیصد گاڑیاں فٹنس کے معیار پر پورا نہیں اترتیں۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے بتایا کہ ٹینکر اور ٹرالر مالکان کے پاس اکثر اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ وہ گاڑیوں کی مکمل مرمت کروا سکیں، اس لیے انہیں وقت دیا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود فٹنس بہتر نہیں کرائی جاتی، جبکہ اس مسئلے میں موٹر سائیکلوں کی ناقص فٹنس بھی شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں ٹریفک کے مسائل کی ایک بڑی وجہ تجاوزات (انکروچمنٹ) بھی ہیں۔ اگر تجاوزات کا خاتمہ نہ کیا گیا تو ٹریفک جام رہے گی اور مسائل مزید جنم لیتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک مسائل کے مستقل حل کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔
