اہم سیاسی شخصیات کیلئے نئے بینکنگ ریگولیشنز پر سینیٹ میں بحث

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں اہم سیاسی شخصیات اور اعلیٰ عہدیداروں سے متعلق نئے بینکنگ ریگولیشنز پر تفصیلی بحث ہوئی۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر Saleem Mandviwalla نے کی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی کی درخواست مسترد کردی

اجلاس کے دوران سینیٹر Farooq H. Naek نے بتایا کہ State Bank of Pakistan نے اہم سیاسی افراد (PEPs) اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے لیے نئے ریگولیشنز تیار کیے ہیں۔ ان ریگولیشنز کے تحت نہ صرف سیاسی شخصیات بلکہ ان کے اہلخانہ اور قریبی رفقا کو بھی پی ای پیز کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

فاروق نائیک کے مطابق ان قواعد کے تحت ایسے افراد کے قریبی ساتھیوں اور اہلخانہ کی مالی سرگرمیوں پر سخت نگرانی کی جائے گی، اور بعض صورتوں میں ان کے کاروباری معاملات بھی محدود ہو سکتے ہیں۔

اجلاس کے دوران سینیٹر Abdul Qadir نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور بینکنگ کلچر میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ تبدیلیاں Financial Action Task Force کی شرائط کے مطابق کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان شرائط پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو پاکستان دوبارہ گرے لسٹ میں جا سکتا ہے۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ان ریگولیشنز پر نظرثانی کی ضرورت ہے کیونکہ قریبی رفقا کی تعریف کا دائرہ کار بہت وسیع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو اہم سیاسی افراد اور اعلیٰ عہدیداروں کے بینک اکاؤنٹس سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لے گی۔

66 / 100 SEO Score

One thought on “اہم سیاسی شخصیات کیلئے نئے بینکنگ ریگولیشنز پر سینیٹ میں بحث

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!