پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں بڑی مشکل سے امن بحال کیا گیا تھا، تاہم بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں نے ایک بار پھر عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
کچے کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز، ڈاکوؤں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی: وزیر داخلہ سندھ
شہید بینظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے پاکستان کے لیے بارہا قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی آنکھوں میں آنسو خوف کے نہیں بلکہ عوام کے درد اور کرب کے ہیں، کیونکہ گزشتہ 14 برسوں سے صوبے کے لوگ دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ صوبے میں دوبارہ امن قائم کیا گیا تھا، لیکن بند کمروں کے فیصلوں نے حالات کو ایک بار پھر خراب کر دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر واقعی دہشت گردی کا خاتمہ مقصود ہے تو قوم کو اعتماد میں لے کر آپریشنز کیے جائیں اور پالیسی سازی میں صوبے کے عوام اور قیادت کو شریک کیا جائے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ جن افراد کے گھر تباہ ہوں گے انہیں مکمل گھر کے لیے چار لاکھ روپے دیے جائیں گے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ملک میں ہونے والے 80 فیصد دہشت گرد حملے خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں، جس کی وجہ صوبے میں دہشت گردوں کو موافق سیاسی ماحول کا ملنا ہے۔ ترجمان پاک فوج نے یہ بھی کہا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا بیانیہ کھل کر سامنے آ چکا ہے اور سوال اٹھایا تھا کہ کیا یہ لوگ آپریشنز نہیں چاہتے یا پھر دہشت گردوں کو فیصلوں کا اختیار دینا چاہتے ہیں۔
