رافیل گروسی، جو کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ ہیں، نے کہا ہے کہ ایران کے زیادہ تر افزودہ یورینیم کے اصفہان کے جوہری مرکز میں موجود ہونے کا امکان ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسز کی تفصیلات سامنے آگئیں، پیٹرول پر 32 فیصد اور ڈیزل پر 21 فیصد ٹیکس عائد
اپنے بیان میں رافیل گروسی نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق صورتحال پر مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور نطنز اور فردو کے جوہری مراکز کے معائنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ درست صورتحال سامنے آ سکے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے، جس میں سے اندازاً 200 کلوگرام اصفہان کی زیرزمین تنصیبات میں موجود ہو سکتا ہے۔
آئی اے ای اے کے سربراہ کے مطابق عالمی سطح پر اس مواد کی نگرانی ایک پیچیدہ عمل ہے اور اس حوالے سے مختلف ممالک کے ساتھ مشاورت جاری ہے، جن میں روس سمیت دیگر فریقین شامل ہیں۔
رافیل گروسی نے مزید کہا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی ہے، تاہم یہ ایک انتہائی حساس اور پیچیدہ عمل ہوگا جس کے لیے بین الاقوامی اتفاق رائے ضروری ہے۔
