وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری نے کہا ہے کہ ایل این جی کی نئی کھیپ موصول ہونے کے بعد ملک میں بجلی کی لوڈ مینجمنٹ ختم ہو چکی ہے اور نظام تیزی سے معمول پر آ رہا ہے۔
سہیل آفریدی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے طور پر برقرار رہیں گے، ان کے خلاف مہم ناکام ہوگی: بیرسٹر گوہر
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ دنوں کے دوران عوام کو لوڈ مینجمنٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم اب ایل این جی کی دستیابی کے بعد صورتحال بہتر ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق گیس کی فراہمی بحال ہوتے ہی پاور پلانٹس کی پیداوار میں اضافہ ہوا جس کے باعث لوڈ مینجمنٹ ختم کر دی گئی ہے۔
اویس لغاری نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو 6 ہزار میگا واٹ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اس سے قبل یہ ایک ہزار میگا واٹ کے قریب تھی۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے فرنس آئل اور دیگر ایندھن سے چلنے والے پلانٹس کو بھی فعال رکھا گیا۔
وفاقی وزیر کے مطابق توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے مہنگی ایل این جی بھی درکار ہوئی کیونکہ قطر سے گیس کی ترسیل میں تاخیر تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ صارفین کو کم سے کم مہنگی بجلی فراہم کی جائے اور نظام کو مستحکم رکھا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت 46 ہزار میگا واٹ نہیں بلکہ حقیقی طور پر 32 ہزار میگا واٹ کے قریب ہے، جبکہ مختلف موسموں اور اوقات میں پیداوار میں اتار چڑھاؤ معمول کا حصہ ہے۔
وزیر توانائی نے کہا کہ ٹرانسمیشن لائنز کو محفوظ اور مستحکم رکھنے کے لیے اقدامات جاری ہیں اور دعا ہے کہ یہ نظام کسی بڑے تکنیکی مسئلے سے محفوظ رہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ڈیمز سے پانی کے اخراج اور پن بجلی کی پیداوار کا انحصار انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) اور صوبائی ضروریات پر ہوتا ہے۔
اویس لغاری کے مطابق حکومت کی پوری کوشش ہے کہ مستقبل میں توانائی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور عوام کو مہنگی بجلی کے بوجھ سے محفوظ رکھا جائے۔
