وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کی زیر صدارت نئی بندرگاہوں کی تعمیر اور ترقی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مستقبل کی بندرگاہی منصوبہ بندی، ماحولیاتی تحفظ اور تجارتی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
نادرا میں چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیق کی سہولت کا آغاز فنگرپرنٹس کے مسائل ختم
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے کہا کہ نئی بندرگاہوں کی ترقی میں ماحولیاتی تحفظ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوگی اور ڈیپ سی بندرگاہوں کی منصوبہ بندی میں معیشت اور ماحول کے درمیان توازن ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سمندری شعبے کی آئندہ سو سالہ ترقی حکومت کی قومی ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیر بحری امور کا کہنا تھا کہ بڑی بندرگاہوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک مؤثر اور پائیدار تجارتی ماڈل کا قیام ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئی بندرگاہوں کے قیام کے لیے تکنیکی اور ماحولیاتی جانچ کے عمل کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، جبکہ مینگرووز اور ساحلی ماحولیاتی نظام کا تحفظ بندرگاہی پالیسی کا لازمی حصہ ہوگا۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ تین سے چار نئی ڈیپ سی بندرگاہوں کے قیام کا منصوبہ زیر غور ہے، جو علاقائی تجارت، لاجسٹکس اور سمندری روابط کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ نئی بندرگاہوں میں سبز توانائی کے استعمال اور جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے پر بھی زور دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ بندرگاہوں کی گنجائش مکمل ہونے سے قبل متبادل انتظامات ناگزیر ہیں تاکہ مستقبل کی تجارتی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کیا جا سکے۔
