نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیقی نظام متعارف کرا دیا ہے۔ اس اقدام سے بالخصوص بزرگ شہریوں اور طبی مسائل کے باعث فنگرپرنٹس کی تصدیق میں مشکلات کا سامنا کرنے والوں کو بڑا ریلیف ملے گا۔
اداکارہ خوشی مکھرجی کا بھارتی ٹی ٹوئنٹی کپتان سوریا کمار یادیو سے متعلق تہلکہ خیز دعویٰ
نادرا کے مطابق وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی خصوصی ہدایات پر قومی شناختی کارڈ قوانین میں ترمیم کی گئی ہے، جس کے ذریعے بائیومیٹرک کی تعریف کو وسیع کر دیا گیا ہے۔ نئی ترمیم کے تحت اب چہرے کی شناخت کو بھی بائیومیٹرک تصدیق میں شامل کر لیا گیا ہے۔
نادرا حکام کا کہنا ہے کہ پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر چہرے کی شناخت کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے، جبکہ 20 جنوری سے ملک بھر کے تمام نادرا رجسٹریشن مراکز میں چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹ کا باقاعدہ اجرا شروع کر دیا جائے گا۔
شہری ضرورت کے وقت معمولی فیس کے عوض یہ سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔ اگر کسی شہری کے فنگرپرنٹس کی تصدیق نہ ہو سکے تو وہ قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز سے رجوع کرے گا، جہاں چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیقی عمل مکمل کیا جائے گا۔
نادرا کی جانب سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ پر شہری کی تصویر، شناختی کارڈ نمبر، نام، ولدیت، منفرد ٹریکنگ آئی ڈی اور کیو آر کوڈ درج ہوگا، جو سات دن تک قابلِ استعمال رہے گا۔
نادرا کا کہنا ہے کہ وہ اس نظام کے نفاذ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور متعلقہ سرکاری و نجی اداروں کو بھی ضروری اقدامات کرنے کی درخواست کر دی گئی ہے۔ 20 جنوری کے بعد اگر کسی ادارے کی جانب سے اس سہولت کی دستیابی سے انکار کیا گیا تو شہری متعلقہ ادارے یا محکمے میں شکایت درج کرا سکیں گے۔ ڈیجیٹل شناختی کارڈ کے اجرا کے بعد یہ سہولت پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر بھی مکمل طور پر دستیاب ہوگی۔

