کراچی: میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ کو خط لکھا ہے جس میں کاٹن ایکسچینج سے متعلق ای ٹی پی بی کے ملکیتی دعوے کو مسترد کر دیا گیا۔ میئر کراچی کے مطابق ای ٹی پی بی دعوے کے حق میں کوئی ثبوت یا دستاویز پیش کرنے میں ناکام رہا۔
کراچی: سڑکوں کی مرمت اور ٹریفک مینجمنٹ کے جامع منصوبے کی منظوری
میئر کراچی نے واضح کیا کہ بلدیہ عظمیٰ اور ریونیو ریکارڈ کے مطابق مذکورہ پراپرٹی 1936 میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کو منتقل ہوئی اور بعد ازاں بلدیہ عظمیٰ نے یہ پراپرٹی کراچی کاٹن ایکسچینج کو باقاعدہ لیز پر دی۔ ای ٹی پی بی کا دعویٰ حقائق پر مبنی نہیں ہے اور یہ معاملہ 2006 سے بلدیہ عظمیٰ اور کاٹن ایکسچینج کے درمیان زیر التوا ہے۔
میئر کراچی نے کہا کہ بطور میئر، بلدیہ عظمیٰ کی ملکیت کا تحفظ میرا آئینی اور قانونی فرض ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کاٹن ایکسچینج ملک کی معاشی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، اور حقائق کی تصدیق کے بغیر وفاقی ادارے کو پراپرٹی سیل کرنے کی کارروائی نہیں کرنی چاہیے تھی، جس سے کاروباری طبقہ اور ہزاروں شہری متاثر ہوئے۔
میئر کراچی نے ایف آئی اے سندھ سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں قانونی اور آئینی حدود کے اندر رہ کر کارروائی کرے اور بلدیہ عظمیٰ کی ملکیت کو یقینی تحفظ فراہم کرے۔

