وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزراء، مشیران، خصوصی معاونین، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ سمیت متعلقہ سیکریٹریز اور اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ ترجمان وزیرِ اعلیٰ سندھ کے مطابق اجلاس میں مجموعی طور پر 12 ایجنڈا آئٹمز شامل تھے، جن پر تفصیلی غور و خوض کے بعد فیصلے کیے گئے۔
کابینہ نے گزشتہ اجلاس کے منٹس کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی، جس میں موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس کے نفاذ پر تفصیلی غور کیا گیا۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان (آئی اے پی) سے مشاورت کی گئی، جس کے تحت دو اجلاس منعقد ہوئے اور کابینہ کو آگاہی فراہم کی گئی۔
کابینہ نے فیصلہ کیا کہ تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کے نفاذ کے لیے موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم کی جائے گی، جبکہ یہ انشورنس اسکیم نئے سال سے نافذ العمل ہوگی۔ اس موقع پر کابینہ نے تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس پر سیلز ٹیکس 15 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کی منظوری بھی دے دی۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ٹریفک حادثات کی صورت میں زیادہ تر متاثرہ فریق کو معاوضہ نہیں مل پاتا، حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جن کے ذریعے متاثرین کو ان کا قانونی حق دلایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ تھرڈ پارٹی انشورنس کے نفاذ سے حادثات میں متاثرہ افراد کو معاوضہ حاصل کرنے کا باقاعدہ قانونی حق ملے گا۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ انشورنس کلیمز کے لیے 24 گھنٹے کی ہیلپ لائن قائم کی جائے تاکہ شہریوں کو فوری سہولت فراہم کی جا سکے۔ کابینہ نے موٹر وہیکل ایکٹ کی شق 19 اور 20 میں ترمیم کی بھی منظوری دے دی، جس کے لیے بل سندھ اسمبلی کو ارسال کر دیا گیا ہے۔
اجلاس میں سندھ کابینہ نے انٹر پروونشل کوآرڈینیشن (آئی پی سی) ڈیپارٹمنٹ کے قواعد و ضوابط میں ترمیم اور سندھ گورنمنٹ رولز آف بزنس 1986 کو اپ ڈیٹ کرنے کی منظوری بھی دے دی۔ آئی پی سی ڈیپارٹمنٹ کو صوبائی سطح پر کونسل آف کامن انٹرسٹس (سی سی آئی) اور آئی پی سی سی کا انتظامی محکمہ مقرر کر دیا گیا ہے۔
