سعودی قیادت میں عرب اتحاد کا یمن کی مکلا بندرگاہ پر فضائی حملہ، ہتھیاروں کی ترسیل کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

سعودی عرب کی قیادت میں قائم عرب اتحاد نے یمن کے مشرقی ساحلی شہر مکلا کی بندرگاہ پر فضائی حملہ کیا ہے، جس میں ایسے ہتھیاروں اور جنگی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات سے آنے والے جہازوں سے اتاری جا رہی تھیں۔

آئی ایم ایف کی نئی شرائط سامنے آگئیں، مقامی الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ

سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق عرب اتحاد نے مکلا بندرگاہ کو بیرونی فوجی امداد کی ترسیل کا مرکز قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف محدود فضائی کارروائی کی۔ اتحادی افواج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام یمن میں عسکری توازن بگاڑنے کی کوششوں کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا۔

اتحادی ترجمان کے مطابق متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے آنے والے دو بحری جہاز بغیر اجازت ہفتہ اور اتوار کو مکلا بندرگاہ میں داخل ہوئے۔ ان جہازوں نے اپنے ٹریکنگ سسٹمز بند کر رکھے تھے اور ان کے ذریعے متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کو بھاری مقدار میں ہتھیار اور جنگی گاڑیاں فراہم کی گئیں۔

عرب اتحاد کا کہنا ہے کہ فضائی حملے کے دوران صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور اس کارروائی میں کسی قسم کی جانی نقصان یا غیر متعلقہ مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اتحاد نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں دونوں جہازوں کے لنگرانداز ہونے اور بعد ازاں ہتھیاروں کی منتقلی کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔

چند روز قبل عرب اتحاد نے یمن کے جنوبی علاقوں میں سرگرم علیحدگی پسند گروہوں کو متنبہ کیا تھا کہ وہ ملک کے مشرقی صوبے حضرموت کی جانب پیش قدمی سے باز رہیں۔ رواں ماہ کے آغاز میں جنوبی یمن میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی تھی جب متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ ایس ٹی سی اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی افواج آمنے سامنے آ گئی تھیں۔

یاد رہے کہ یمن 2014 سے جاری خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے، جبکہ مقامی ذرائع ابلاغ دسمبر کے آغاز سے جنوبی یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ گروہوں کے درمیان ممکنہ تصادم پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

54 / 100 SEO Score

One thought on “سعودی قیادت میں عرب اتحاد کا یمن کی مکلا بندرگاہ پر فضائی حملہ، ہتھیاروں کی ترسیل کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!