سندھ حکومت کا صوبے بھر میں تاریخی و ورثہ عمارتوں کے نئے سروے کا فیصلہ

سندھ حکومت نے صوبے بھر میں موجود تاریخی اور ورثہ عمارتوں کا ازسرِنو جامع سروے کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کا اعلان چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیرِ صدارت ثقافتی ورثے سے متعلق مشاورتی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔
مددگار-15 کی 2025 میں مثالی کارکردگی لاکھوں کالز پر فوری ردعمل جرائم پیشہ عناصر گرفتار

اجلاس میں سیکریٹری ثقافت، سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز، ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور ڈائریکٹر جنرل محکمہ آثارِ قدیمہ نے شرکت کی، جبکہ کمیٹی کے رکن حمید ہارون، معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری اور آرکیٹیکچرل کنسلٹنٹ سہیل احمد کلہوڑو بھی اجلاس میں موجود تھے۔

چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ صوبے میں ہیریٹیج عمارتوں کا آخری سروے 2017 میں کیا گیا تھا، جس کے دوران 3371 عمارتوں کو ورثہ قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان عمارتوں کی موجودہ حالت کا جائزہ لینا، نئی ورثہ عمارتوں کی نشاندہی کرنا اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ورثہ عمارتوں کے تحفظ کے لیے محکمہ آثارِ قدیمہ کی ٹیکنیکل کمیٹی کے سیکریٹریٹ کو مزید مضبوط کیا جائے گا، جبکہ سیکریٹریٹ سپورٹ کے لیے مارکیٹ سے اہل اور قابل افسران کی بھرتی بھی کی جائے گی۔

چیف سیکریٹری سندھ نے ہدایت دی کہ تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے لیے موجود قوانین کو مزید سخت اور مؤثر بنایا جائے تاکہ صوبے کے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھا جا سکے اور غیر قانونی تعمیرات یا تجاوزات کا خاتمہ ممکن ہو۔

67 / 100 SEO Score

One thought on “سندھ حکومت کا صوبے بھر میں تاریخی و ورثہ عمارتوں کے نئے سروے کا فیصلہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!