کراچی: آئی جی سندھ نے آر آر ایف اور ایس پی یو کے عملے کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کچہ ایریا میں امن و امان قائم کرنے میں ان کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سندھ میں پہلی تقرری کے وقت کچہ ایریا میں اغواء برائے تاوان، پولیس پر حملے اور دیگر جرائم کی شرح بہت زیادہ تھی۔
آئی جی سندھ نے بتایا کہ اسی پس منظر میں آر آر ایف کو کچہ ایریا میں تعینات کیا گیا، جس نے ڈاکوؤں کے خلاف بہترین آپریشن کر کے امن قائم کیا اور سندھ پولیس کی عزت میں اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے اور کئی ڈاکو ہلاک ہوئے جن کے سروں کی قیمت مقرر تھی۔
آئی جی سندھ نے سندھ حکومت کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا جس نے ان یونٹس کو جدید آلات، گاڑیاں اور وسائل فراہم کیے۔ انہوں نے کہا کہ آر آر ایف کے قیام کے بعد بڑے واقعات کے دوران نفری کی دستیابی کا مسئلہ بھی حل ہو گیا۔
مزید برآں، آئی جی سندھ نے کراؤڈ منیجمنٹ یونٹ، شعبہ اینٹی رائٹس اور ایس پی یو کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ ایس پی یو سی پیک، نان سی پیک اور چینی باشندگان کی سیکورٹی بہترین انداز میں انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے شعبہ انویسٹیگیشن میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اچھی تفتیش کے بغیر ملزمان کو عدالت سے سزا دلوانا ممکن نہیں۔
آئی جی سندھ نے سائبر کرائم برانچ کے ساتھ کرائم برانچ کو منسلک کرنے کی حکمت عملی اور حکومت سندھ کو بھی سفارشات ارسال کرنے کا عندیہ دیا۔ تقریب کے اختتام پر ایڈیشنل آئی جی آپریشن، ڈی آئی جیز آر آر ایف، ایس پی یو اور کرائم اینڈ انویسٹیگیشن سندھ کے دیگر افسران نے آئی جی سندھ کو روائتی تحائف پیش کیے۔
