وزارتِ صحت میں ٹیلی میڈیسن کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی موجودگی میں وزارتِ صحت اور صحت کہانی کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس موقع پر وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ آج ٹیلی میڈیسن کے حوالے سے ایک بہت بڑا دن ہے اور یہ شعبۂ صحت میں ایک خاموش انقلاب ثابت ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف: پاک بھارت جنگ میں مودی سرکار کو ایسا سبق ملا جو کبھی نہیں بھول پائیں گے
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہمارے نجی اور سرکاری اسپتالوں میں سیاسی جلسوں کی مانند ہجوم نظر آتا ہے، جس کی بنیادی وجہ پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر سسٹم کی عدم موجودگی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرائمری ہیلتھ سسٹم کا مؤثر متبادل ٹیلی میڈیسن سسٹم ہے، جسے اب وفاقی بنیادی صحت مراکز میں متعارف کرایا جا رہا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اسلام آباد میں 6 جنوری کو ٹیلی میڈیسن پراجیکٹ کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا، جبکہ اس منصوبے کے تحت اسلام آباد کے 6 اور کراچی کے 4 مقامات پر ٹیلی میڈیسن سسٹم نصب کیا جائے گا۔ ان مراکز پر مریضوں کو آن لائن کیمرے کے ذریعے بیک وقت تین جنرل فزیشنز دیکھیں گے اور مجموعی طور پر چھ مقامات پر اٹھارہ ڈاکٹر آن لائن دستیاب ہوں گے۔
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق آن لائن مریضوں کے لیے دوا کی پرچی جاری کی جائے گی اور مریض کو وہیں سے ادویات فراہم کی جائیں گی، جس سے بڑے اسپتالوں کا رش بتدریج کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بڑے اسپتالوں میں آنے والے 70 فیصد مریضوں کو بنیادی صحت مراکز سے علاج حاصل کرنا چاہیے۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ملک میں ڈاکٹرز کی ایک بڑی تعداد، خصوصاً خواتین ڈاکٹرز، عملی طور پر پریکٹس نہیں کر رہیں، جبکہ ٹیلی میڈیسن کے ذریعے وہ گھر بیٹھے مریضوں کا علاج کر سکیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ چھ ماہ قبل یہ ایک خواب تھا اور اب یہ بارش کے پہلے قطرے کی مانند حقیقت بن چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 6 جنوری کو پہلے بیسک ہیلتھ یونٹ (بی ایچ یو) کا افتتاح کیا جائے گا، جس کے بعد ٹیلی میڈیسن سسٹم کو مرحلہ وار دیگر علاقوں تک وسعت دی جائے گی۔
