کولکتہ: بھارتی شہر کولکتہ کے سالٹ لیک اسٹیڈیم میں عالمی شہرت یافتہ فٹ بالر لیونل میسی کی آمد کے موقع پر ناقص انتظامات کے باعث شدید بدنظمی اور توڑ پھوڑ دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں فٹ بالر اپنے مداحوں سے ملاقات کیے بغیر ہی واپس لوٹ گئے۔ واقعے کے بعد حکام نے تحقیقات کے لیے باقاعدہ کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
سڈنی کے بونڈی ساحل پر ہولناک فائرنگ: مبینہ حملہ آور باپ بیٹا نکلے، ہلاکتیں 16 تک پہنچ گئیں
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق لیونل میسی بھارت کے تین روزہ دورے پر کولکتہ پہنچے تھے، جہاں لیک ٹاؤن میں واقع شری بھومی اسپورٹنگ کلب میں ان کے 21 میٹر بلند مجسمے کی نقاب کشائی کی گئی، تاہم یہ تقریب آن لائن منعقد ہوئی۔
بعد ازاں لیونل میسی سالٹ لیک اسٹیڈیم پہنچے مگر وہاں شدید بدنظمی، دھکم پیل اور توڑ پھوڑ کے باعث وہ چند منٹ ہی اسٹیڈیم میں قیام کر سکے، جس پر ہزاروں شائقین میں شدید مایوسی پھیل گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اسٹیڈیم میں موجود ایک شائق نے بتایا کہ ایونٹ انتہائی ناقص انداز میں منعقد کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میسی کے اردگرد سیاسی رہنماؤں اور وزراء کا ہجوم موجود تھا، جس کے باعث عام شائقین انہیں قریب سے دیکھنے سے محروم رہے۔
شائقین نے شکایت کی کہ میسی نے نمائشی فٹبال بھی نہیں کھیلی جبکہ منتظمین کی جانب سے اداکار شاہ رخ خان کی آمد کے دعوے بھی پورے نہ ہو سکے۔ مداحوں نے وقت، پیسے اور جذبات ضائع ہونے پر شدید غصے اور ناراضی کا اظہار کیا۔
واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم
واقعے کے بعد ریاستی حکام نے لیونل میسی اور ان کے مداحوں سے باقاعدہ معذرت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی قائم کی جا رہی ہے۔ کمیٹی کی سربراہی ریٹائرڈ جسٹس اشیم کمار رائے کریں گے، جبکہ چیف سیکریٹری اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ہوم اینڈ ہِل افیئرز) بھی اس کا حصہ ہوں گے۔
کمیٹی واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داران کا تعین کرے گی اور آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔
ادھر لیونل میسی کے قیام کے ہوٹل کے باہر بڑی تعداد میں شائقین جمع ہو گئے، جس کے باعث سیکیورٹی صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے معمولی لاٹھی چارج اور دیگر اقدامات کیے۔ پولیس حکام کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کے لیے یہ اقدامات ناگزیر ہو گئے تھے۔
