کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ اور چیئرمین سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) سعید غنی نے ہدایت کی ہے کہ سیسی کے تحت بینظیر مزدور کارڈز کے اجراء کے عمل کو مزید تیز کیا جائے تاکہ مزدوروں اور محنت کشوں کو خدمات کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کو جدید، معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے سیسی اسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔
پاکستان کا تصور ناقابلِ تسخیر، جواب مزید شدید اور برق رفتار ہوگا: فیلڈ مارشل عاصم منیر
175ویں گورننگ باڈی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سعید غنی نے سیسی کے تحت مکمل سہولیات سے آراستہ کینسر اسپتال کی فزیبلٹی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری محنت سندھ اسد اللہ ابڑو، کمشنر سیسی ہادی بخش کلہوڑو، اراکین گورننگ باڈی انجینئر عبدالجبار، دانش خان، محمد خان ابڑو، عبد الوحید شورو، زہرہ خان، مختار حسین اعوان، میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر سعادت میمن سمیت دیگر شریک تھے۔
اجلاس میں گلشن اقبال اور ملیر میں سیسی کے دو ڈائریکٹوریٹس اور ڈسپنسری اسکیم 33 و شاہ لطیف ٹاؤن کو 6 ماہ کے کرائے پر عارضی دفاتر قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔
اس کے علاوہ سیسی کے ریٹائرڈ ملازمین کو مفت طبی سہولیات کی فراہمی کے معاملے پر ارکان نے ہدایت دی کہ یہ سہولت سیسی ایکٹ کے مطابق دی جائے۔
مزید برآں فیصلہ کیا گیا کہ سیسی میں جونیئر اور سینئر کلرک کی نئی بھرتیوں کے لیے کم از کم تعلیمی قابلیت گریجویشن اور کمپیوٹر کی مہارت لازمی ہو گی، تاہم موجودہ ملازمین کی پروموشن اس شرط سے مستثنیٰ رہے گی۔
اجلاس میں بینظیر مزدور کارڈز کے حوالے سے اراکین نے مسائل کی نشاندہی کی جس پر سعید غنی نے کمشنر سیسی کو ہدایت دی کہ آئندہ اجلاس سے قبل نادرا حکام سے ملاقات کرکے تمام اعتراضات دور کیے جائیں۔
اسی طرح میرپور خاص سرکل کی تعمیر، اوباڑو ڈسپنسری، سیسی میں لیگل ڈپارٹمنٹ اور آئی ٹی ڈپارٹمنٹ میں نئی تعیناتیوں کے ایجنڈے کو ورکنگ پیپر مکمل نہ ہونے پر آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا۔

