امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی 17 سالہ کرپشن نے کراچی کو تباہ حال کر دیا ہے اور شہر کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا ہر شعبہ، خاص طور پر انفراسٹرکچر، واٹر کارپوریشن اور سڑکیں گٹر جیسا منظر پیش کر رہی ہیں۔
کراچی میں امام احمد رضا کانفرنس 2025: بلا سود بینکاری اور اسلامی معیشت کے جدید افکار پر زور
منعم ظفر نے مزید کہا کہ شہر کے ترقیاتی منصوبے وقت پر مکمل نہیں ہوتے، کریم آباد انڈر پاس ابھی تک مکمل نہیں ہوا، ملیر چوک سے ٹینک چوک تک سڑکیں انتہائی خراب ہیں، اور گلستان جوہر میں انڈر پاس کے نام پر شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران شہریوں کی بات نہیں سنتے اور صوبائی حکومت کے دعوے ہی سب کچھ ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد بھی کراچی کو مناسب وسائل فراہم نہیں کیے گئے، بجٹ میں اضافہ کے باوجود شہر کو وہی پرانے فنڈز مل رہے ہیں جو 2018 میں ملتے تھے۔ انہوں نے مئیر کراچی سے سوال کیا کہ ترقیاتی کام کے 60 دن کب شروع ہوں گے، اور بتایا کہ کے ایم سی نے الیکٹرک کے بلوں پر 4 ارب روپے سے زائد وصول کر لیے ہیں، جبکہ واٹر کارپوریشن مرتضیٰ وہاب کے ماتحت ہے۔
منعم ظفر نے کہا کہ اس سال گٹر میں گرنے سے 24 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، شہر میں بسیں صرف اعلانات کی حد تک ہیں، جبکہ 300 بسیں اور 100 بی آر ٹی شامل کر کے بھی شہر کی آبادی کے لیے ناکافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں موٹر سائیکل پر لاکھوں لوگ سفر کرتے ہیں اور ہیوی ٹریفک کے باعث 250 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
