اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جیل ملاقاتوں پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے، جبکہ انہیں کسی قسم کا مجمع اکٹھا کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔ جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ملک کے لیے مسلسل خطرہ بنتے جا رہے ہیں اور ان کا مقصد ریاست کو نقصان پہنچانا ہے۔
اورنگا آباد و ناظم آباد میں تین سالہ پانی کا بحران، رہائشیوں کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ
عطا تارڑ نے الزام عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت نے ملکی معیشت کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیلنے کے لیے آئی ایم ایف کو خطوط لکھے۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے حملوں نے ملک کے دشمنوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی پاکستان کی سالمیت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “ایک شخص کی خواہشات قومی مفاد پر حاوی نہیں ہو سکتیں۔ پاکستان سے بڑھ کر کچھ نہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ جیل رولز کے مطابق ملاقات کے دوران سپرنٹنڈنٹ موجود ہوتا ہے، جس کی رپورٹ کے مطابق ملاقاتوں میں سیاسی گفتگو اور ہدایات دی گئیں، اس لیے ملاقاتوں پر پابندی لگائی گئی۔
وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ جیل کے باہر کسی نے امن و امان خراب کرنے کی کوشش کی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ “اب ریاست کی رٹ بحال کرنے کا وقت ہے۔ نہ ملاقات کی اجازت ہوگی نہ سیاسی سرگرمی کی۔”
عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے کئی ارکان خود اعتراف کر رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی نے انہیں مشکل میں ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا انتہاپسندانہ بیانیہ اب اپنی ہی جماعت میں متنازع ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کا آپشن سنجیدگی سے زیر غور ہے اور ملک دشمن بیانیہ بنانے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔
پی ٹی آئی پر پابندی سے متعلق سوال کے جواب میں عطا تارڑ نے کہا، “مرے ہوئے کو کیا مارنا؟ ان کے پاس نہ نشان ہے نہ جماعت۔”
