ایک خریدار اُس وقت دھوکے کا شکار ہوا جب وہ کنسرٹ کے مقام پر پہنچا اور عملے نے اسے بتایا کہ اس کے خریدے گئے ٹکٹ جعلی ہیں۔ متاثرہ شخص نے انسٹاگرام پر کنسرٹ ٹکٹ کا اشتہار دیکھا، اسے درست سمجھتے ہوئے واٹس ایپ کے ذریعے فروخت کنندہ سے رابطہ کیا اور 900 درہم ٹکٹ کی رقم ادا کر دی۔
آن لائن محبت یا بھیانک فریب؟ جھوٹی رومانوی دوستی نے امریکی شہری کی زندگی اجاڑ دی
کنسرٹ کے مقام پر اصل صورتحال کا علم ہونے کے بعد خریدار نے فوری طور پر فوجداری شکایت درج کرائی۔
عدالتی کارروائی اور فیصلہ
فوجداری کیس میں مدعا علیہ کو غیر حاضری میں مجرم قرار دیتے ہوئے 5 ہزار درہم جرمانہ عائد کیا گیا۔ بعد ازاں خریدار نے سول عدالت میں مقدمہ دائر کیا اور رقم کی واپسی کے ساتھ 9 ہزار 100 درہم ہرجانے کا مطالبہ کیا۔
سول عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ:
مدعا علیہ خریدار کو 900 درہم واپس کرے
فوجداری کیس میں عائد 5 ہزار درہم کا جرمانہ برقرار رہے
اضافی ہرجانے کا مطالبہ غیر مناسب ہے، لہٰذا اسے مسترد کیا جاتا ہے
عدالتی حکم کے بعد خریدار کی اصل رقم کی واپسی یقینی ہو گئی جبکہ مجرم پر عائد 5 ہزار درہم کا جرمانہ برقرار رہے گا۔
