آن لائن محبت یا بھیانک فریب؟ جھوٹی رومانوی دوستی نے امریکی شہری کی زندگی اجاڑ دی

امریکی ریاست نیو جرسی کے رہائشی 52 سالہ جو نوواک کی زندگی اُس وقت تباہی کی جانب مُڑ گئی جب انہیں اکتوبر 2024 میں فیس بک میسنجر پر ایک اجنبی خاتون کا دوستانہ پیغام موصول ہوا۔ سی این این کے مطابق نوواک کو اندازہ بھی نہ تھا کہ یہ پیغام ایک ایسے دھوکے کا آغاز ہے جو اُن کی زندگی بھر کی جمع پونجی نگل جائے گا۔
اسرائیل کی یکطرفہ خلاف ورزیاں جنگ بندی مشکوک مسلم ممالک کو مؤقف پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی خواجہ آصف

نوواک نے اپنے بیٹے—جو سیلیک بیماری کا شکار ہے—کے لیے محفوظ فاسٹ فوڈ کی کمی پر ایک عوامی پوسٹ شیئر کی تھی۔ اسی پوسٹ کے بعد ایک دبلی پتلی سنہری بالوں والی خاتون، ’ایلس ڈینر‘ کے نام سے، ان کے ان باکس میں داخل ہوئی۔ اس نے خود کو نیویارک کی میڈیسن ایونیو پر کام کرنے والی ایک فیشن ڈیزائنر ظاہر کیا اور نوواک کے بیٹے کے لیے اُن کے احساس کو "دل کو چھو لینے والا” قرار دیا۔

ابتدائی گفتگو فیس بک پر ہوئی، پھر اس کے کہنے پر واٹس ایپ پر منتقل ہو گئی، جہاں باتیں ذاتی نوعیت اختیار کرتی گئیں۔ نوواک اس دوران نوکری سے محروم، طلاق کے بعد بچوں کی تحویل کے تنازع اور ذہنی دباؤ کا شکار تھے—ایسی کیفیت جسے دھوکے بازوں نے فائدہ اُٹھانے کا موقع سمجھا۔

ایلس نے اپنی زندگی کو ایک دلکش کہانی بنا کر اُن کے سامنے رکھا—دو براعظموں میں پھیلی مصروفیات، طلاق، حمل ضائع ہونے کا دکھ، اور پرتعیش طرزِ زندگی ۔ ریڈ فراریز، مہنگے فیشن شوز، خوبصورت چھٹیاں، نیویارک میں برفباری کی ویڈیوز، حتیٰ کہ اپنے کتے ’لکی‘ کی ریکارڈنگز—یہ سب کچھ اعتماد پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق یہ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے آن لائن فراڈ ’پِگ بچرنگ‘ کے کلاسک طریقے ہیں—جہاں متاثرہ شخص کو ’ذبح کرنے سے پہلے موٹا‘ کیا جاتا ہے۔ اعتماد اور جذباتی تعلق قائم کر کے اسے جعلی کرپٹو سرمایہ کاری میں پھنسا دیا جاتا ہے۔

فروری تک دونوں نے ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کر دیا، لیکن اپریل میں نوواک اپنی زندگی کی کل جمع پونجی—2 لاکھ 80 ہزار ڈالر—اس جعلی سائٹ پر منتقل کر چکے تھے جو ایلس نے تجویز کی تھی۔ کچھ ہی دن بعد ایلس غائب ہو گئی، اور ان کی تمام تصاویر، ویڈیوز اور وعدے جھوٹ ثابت ہوئے۔

نوواک کے مطابق:
"میں نے سب کچھ کھو دیا… بچوں کا مستقبل، اپنی جمع پونجی… میں ہر دن روتا رہا۔”

ایلس نے کبھی حقیقی ویڈیو کال نہیں کی، مگر اُس نے ایک بار مختصر ویڈیو کال دکھا کر یہ تاثر دیا کہ سب اصلی ہے۔ اسی ’حقیقت‘ نے نوواک کے شکوک کو ختم کر دیا۔ لیکن وہ سمجھ نہیں پاتے کہ "برفباری، کتا اور ویڈیو کال جیسے مناظر کیسے جعلی ہو سکتے ہیں؟”

بہرحال ماہرین کے مطابق یہ سب چُرالے گئے مواد، ترمیم شدہ ویڈیوز اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔

حیران کن طور پر ’ایلس‘ کی پروفائل بعد میں ایک نئے نام کے ساتھ فیس بک پر دوبارہ ظاہر ہو گئی، مگر وہی ریڈ فراری، نیویارک کے مناظر اور کتا ’لکی‘ کی تصاویر دوبارہ موجود تھیں۔ جب سی این این نے دھوکا باز سے رابطہ کیا تو اس نے واٹس ایپ پر نوواک کو دوبارہ پیغامات بھیج کر چھیڑنے کی کوشش کی، لیکن اس بار نوواک بے بس نہیں تھے۔

انہوں نے جواب میں لکھا:
"روشنی ہمیشہ تاریکی پر غالب آتی ہے… ایک دن تمہیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا، میں اس کی ضمانت دیتا ہوں۔”

نوواک اب ایک جریدہ لکھ رہے ہیں تاکہ اس صدمے کو سمجھ سکیں، اور امید رکھتے ہیں کہ ان کے بچے ایک دن یہ پڑھ کر جان سکیں گے کہ اُن کے والد درحقیقت کیسے انسان تھے۔

One thought on “آن لائن محبت یا بھیانک فریب؟ جھوٹی رومانوی دوستی نے امریکی شہری کی زندگی اجاڑ دی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!